الحدیدہ : نئی صف بندی کمیٹی میں شامل حکومتی ٹیم پر حوثیوں کا تیسرا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے منگل کے روز ایک بار پھر الحدیدہ شہر میں نئی صف بندی سے متعلق رابطہ کار کمیٹی میں شامل حکومتی ٹیم کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ سویڈن معاہدے کے تحت نئی صف بندی کے پہلے مرحلے پر عمل درامد کی جانب اتفاق رائے کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

مشترکہ یمنی مزاحمت کے عسکری میڈیا کے ذرائع کے مطابق ایرانی نواز حوثی ملیشیا نے الحدیدہ میں حکومتی ٹیم کے دفتر کو کیٹوشیا راکٹوں اور توپ کے گولوں سے نشانہ بنایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز کے اندر مذکورہ حکومتی ٹیم کے دفتر کو تیسری مرتبہ نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حوثی ملیشیا سویڈن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔

حوثی ملیشیا نے گزشتہ ہفتے کے آغاز میں حکومتی ٹیم کے دفتر کو کیٹوشیا راکٹوں سے نشانہ بنایا تھا۔ اس کے اگلے روز دفتر کو ڈرون طیارے کے ذریعے حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم اس ڈرون کو مار گرایا گیا۔

ادھر حوثیوں کی انقلاب سپریم کونسل کے سربراہ محمد علی الحوثی نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی جماعت الحدیدہ کے مرکزی ساحلی شہر سے دست بردار نہیں ہو گی۔

محمد علی کا کہنا تھا کہ حوثی اپنی فورسز ہٹانے پر تو آمادہ ہو گئے ہیں تاہم وہ "علاقے پر کنٹرول" رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی حکومت کو کسی حیلے سے الحدیدہ کی بندرگاہ پر کنٹرول حاصل نہیں کرنے دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں