.

ایرانی پولیس نے اھواز میں 34 امدادی کارکن گرفتار کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پولیس نے عرب اکثریتی صوبے الاھواز میں ریلیف اور امدادی کاموں میں‌ حصہ لینے والے 34 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب سیلاب متاثرین کی مدد کی آڑ میں دوسرے ممالک کے جنگجوئوں کو اھواز منتقل کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق ایرانی پولیس نے اھواز میں تلاشی کے دوران امدادی کاموں میں پیش پیش 34 سماجی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب لبنانی حزب اللہ، عراق کی الحشد اور افغان جنگجوئوں پر مشتمل 'فاطمیون' ملیشیا کے دسیوں جنگجوئوں‌ کو اھواز لایا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ مختلف ملکوں کی عسکری ملیشیائوں‌کے عناصر کو اھواز لانے کا مقصد سیلاب سے متاثرہ شہریوں کی بحالی میں مدد کرنا ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ عسکری گروپوں کے عناصر کو اھواز منتقل کرنے کا مقصد مقامی سطح پر سیلاب کے حکومتی غفلت کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاجی مظاہروں کو کچلنا ہے۔ مگر ان غیر ملکی اور مقامی جنگجوئوں کو امدادی کارکنوں کے روپ میں لایا گیا ہے۔

ایران میں حزب اللہ کے مندوب معین دقیق کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے جنگجوئوں کی بڑی تعداد اس وقت ایران میں موجود ہے۔ انہیں تنظیم کے سیکرٹری جنرل کےحکم پر یہاں لایا گیا ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کی جاسکے۔

خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' کے مطابق معین دقیق کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے تنظیم کے عناصر کو حکم دیا تھا کہ وہ ایران پہنچیں اور ایرانی ہلال اھمر اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرین کی بحالی میں ان کی مدد کریں۔

معین دقیق سے قبل اھواز میں عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے عناصر کو بھی فیلق القدس ملیشیا کے ساتھ دیکھا گیا۔ الحشد کے ایک لیڈر ابو مہدی المہندس کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کے ارکان اس وقت سیلاب سے متاثرہ ایرانی صوبے اھواز میں متمرکز ہیں۔