.

’’الجزیرہ‘‘ نے اسرائیل کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے دو نو وارد صحافی قربان کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر سے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے الجزیرہ ٹی وی کی انتظامیہ نے اتوار کے روز اپنے دو صحافیوں کو کام سے روک دیا۔

یہ اقدام یہودیوں سے متعلق ہولوکاسٹ کے بارے میں ایک وڈیو کلپ کی تیاری کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ چینل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وڈیو کلپ میں الجزیرہ نیٹ ورک کے مقررہ معیارات اور ایڈیٹوریل ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں نے انتہائی منظم طریقے سے 60 لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔

الجزیرہ نیٹ ورک کے ڈیجیٹل چینل AJ+ پر پیش کی جانے والی وڈیو میں کہا گیا ہے کہ نازیوں کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل کی "کہانی" صہیونی تحریک کی جانب سے پیش کی گئی۔ اس وڈیو کو پہلی مرتبہ 18 مئی کو نشر کیا گیا۔ وڈیو میں نازی دور کے دوران یورپ کے یہودیوں پر ظلم وستم سے متعلق مناظر بھی شامل ہیں۔

وڈیو میں اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ ظلم وزیادتی کا منظم سلسلہ یہودیوں تک محدود نہیں تھا تاہم ان کی "میڈیا اداروں" تک رسائی ہونے کے سبب وہ اپنے دکھوں پر "روشنی ڈالنے" میں کامیاب رہے۔

الجزیرہ نیٹ ورک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے دونوں صحافیوں کے خلاف "تادیبی اور انظباطی اقدامات" کیے ہیں۔ بیان کے مطابق چینل کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے مذکورہ وڈیو کو حذف کر دیا گیا ہے کیوں کہ وہ چینل کے پیشہ وارانہ معیار اور ادارتی پالیسی سے لگا نہیں کھاتی تھی۔

دوسری جانب الجزیرہ نیٹ ورک میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یاسر بشر نے تسلیم کیا کہ وڈیو کلپ میں واضح اہانت موجود ہے اور نیٹ ورک اس وڈیو سے اپنی لا تعلقی کا اعلان کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الجزیرہ کے پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس طرح کا مواد نشر ہونا قبول نہیں کیا جائے گا۔

ادھر نیٹ ورک میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم الجزیرہ پلس کی ڈائریکٹر دیمہ الخطیب کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو مطلوبہ ایڈیٹوریل نگرانی کے بغیر تیار کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پروڈکشن سے متعلق ضوابط پر نظر ثانی کی جا رہی ہے تا کہ کوئی بھی مواد کسی بھی صورت میں قابل اعتماد روش سے باہر نہ جا سکے۔