ٹرمپ انتظامیہ کانگرس کی اجازت کے بغیر ریاض کو اسلحہ کی فروخت کے لیے کوشاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس نے کانگرس کو بتا دیا ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کانگرس کی منظوری کے بغیر سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت یقینی بنائے گی۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب اور مُتحدہ عرب امارات کو 7 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرے گی۔
اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے مطابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور دیگراعلیٰ حکام سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روکنے کے بل کو غیر مؤثر کرنے اور روکی گئی دفاعی مصنوعات سعودی عرب کو مہیا کرنے کے لیے ہنگامی پلان پرعمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی سینیٹر باب مینینڈیز کا کہنا ہے کہ کانگریس کو جمعہ کے روز بتایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ سعودی عرب کو ہنگامی بنیادوں پر اسلحہ کی فروخت کا ارادہ رکھتی ہے۔ کانگرس میں اعتراضات کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ملکوں کو اسلحہ کی فروخت جاری رکھے گی۔
خیال رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کو اسلحہ کی فروخت کی مانیٹرنگ پر اعتراض کا اختیار حاصل ہے۔ کانگرس کے قانون کے تحت امریکی انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو اسلحہ کی فروخت سے قبل کانگرس کو مطلع کرے، تاہم ہنگامی حالت میں صدر کو یہ اختیار ہے کہ وہ کانگرس کو بتائے بغیر امریکا کے قومی سلامتی کے مفاد کے پیش نظر کسی بھی ملک کو اسلحہ فروخت کرے۔
-
امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مطابق سعودی عرب کے معاہدے ویژن 2030 کے کام آئیں گے
امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے متعدد عہدے داروں نے باور کرایا ہے کہ اسلحے کے معاہدوں ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روکنے کا مطالبہ محض "جذباتی" ہے: ماکروں
فرانس کے صدر عمانویل ماکروں نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کو جواز بنا کر سعودی عرب ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کو برطانوی اسلحہ کی فروخت روکنے کے لیے دائر درخواست مسترد
لندن ہائی کورٹ نے ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کو برطانوی اسلحہ ...
بين الاقوامى