سعودی عرب کے جبل رال سے کہکشائوں کے نظارے کیسے دکھتے ہیں؟

مظاہر فطرت کے شوقین سعودی شہری کہکشائوں کے نظارے کیمرے میں محفوظ کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مناظر فطرت کے دلدادہ سعودی شہری نے مملکت کے شمال مغربی علاقے تبوک میں الوجہ گورنری میں پہاڑی چوٹیوں سے کہکشائوں کے ایسے نظارے اپنے کیمرے میں محفوظ کیے کہ انہیں دیکھ کر ہر شخص مبہوت رہ جاتا ہے۔

تبوک کے جبل 'رال' کی خوبصورتی کو مشہورعرب شاہر رشید المطرفی نے اپنے اشعار میں بیان کیا مگر ایک سعودی شہری اور فوٹو گرافر محمد شریف نے جبل رال کی خوبصورتی اور وہاں سے دکھائی دینے والی کہکشائوں کے جھرمٹ کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرکے مناظر فطرت کو محفوظ کرلیا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے محمد شریف نے کہا کہ پہاڑ کی چوٹی سے کہکشائوں اور ستاروں کی گردش کے مناظر قدرت کی صنعاعی اور کارگری کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ انہوں‌ نے یہ تصاویر گذشتہ قمری مہینے کے دوران نصف شب کو لیں۔ چاند طلوع ہونے سے قبل لی گئی تصاویر میں کہکشائوں کی حرکت کو محفوظ کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں شریف نے کہا کہ کہکشاں کے بعض حصے پورا پورا سال تمام راتوں کو موجود ہوتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں‌ اوائل شب کہکشاں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ موسم بہار میں کہکشائیں زیادہ واضح نہیں‌ ہوتیں۔ البتہ موسم گرما میں کہکشائوں کو زیادہ نمایاں انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ گرمیوں میں افق پربادل کی طرح ایک سفید لہر بلند ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ پھیلتی چلی جاتی ہے۔ تاہم یہ منظر آسمان پر بادلوں کے نہ ہونے کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب کی الوجہ گورنری میں کہکشاں جنوب مشرقی سمت سے نکلتی ہے اور شرقا غربا پھیل جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد شریف نے کہا کہ کہکشائوں کی تصاویر لینے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عظیم صنعاعی کے بارے میں جان کاری حاصل کرنا ہے۔ ایک مصور خالق کی عظمت اور آسمان میں کہکشائوں کی شکمل میں اس کی تخلیق، کائنات کے دوسرے سربستہ راز محفوظ کرتا ہے تاکہ دوسرے لوگ جو یہ مناظر براہ راست نہیں دیکھ پائے ان تصاویر سے محفوظ ہو سکیں۔ اس نے بتایا کہ مکمل کہکشاں کو دیکھنے کے لیے چار گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ عام طور پر رات دس بجے سے دو بجے تک کہکشاں کو مکمل طورپر دیکھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں