.

برطانوی گلوکارہ کو ملک سے نکالا نہیں بلکہ داخل ہونے سے روکا ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے معروف گلوکارہ Joss Stone کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی گلوکارہ کو صرف ایرانی سرزمین میں داخل ہونے سے روکا گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نے "جزیرہ کیش" کی پولیس کا بیان نقل کیا ہے کہ "جوس اسٹون اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ مطلوبہ دستاویزات نہ ہونے کی بنا پر ایرانی اراضی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا"۔

اسٹون نے بدھ کے روز انسٹاگرام پر ایک وڈیو کلپ پوسٹ کیا جس میں ایرانی جزیرے کیش پہنچنے پر پیش آنے والے واقعے کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں حراست میں لیا گیا اور پھر بے دخل کر دیا گیا"۔ اسٹون کے مطابق ایرانی حکام کو شبہ تھا کہ برطانوی گلوکارہ اس سیاحتی جزیرے میں ایک عوامی مقام پر گلوکاری کا ارادہ رکھتی تھیں۔

ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد سے عوامی مقامات پر خواتین کی انفرادی صورت میں گلوکاری ممنوع ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ خاتون گلوکار اور ان کے ساتھی مسقط سے آئے تھے اور پھر روانہ ہو گئے۔ ایجنسی نے ایرانی اراضی میں داخلے سے روکے جانے کی وجوہات کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔

برطانوی گلوکارہ نے لکھا کہ "ہمیں اس بات کا علم تھا کہ اعلانیہ محفل کا انعقاد ممکن نہیں ہے، کیوں کہ اس ملک میں اس بات کی اجازت نہیں، اس لیے کہ میں ایک عورت ہوں"۔ جوس اسٹون نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی محفل موسیقی کا انعقاد کس طرح کیا جانا تھا۔

اسٹون نے اسکارف کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی اور اس کے ساتھ ایک پیغام میں لکھا کہ "میں ایک ہی وقت میں بہت قریب ہوں اور دور بھی اس بات نے میرا تھوڑا سا دل توڑ دیا"۔

جوس اسٹون اس سے قبل ان سیاسی اور سیکورٹی حوالے سے شورش زدہ ممالک میں بھی اپنے کنسرٹ کا انعقاد کر چکی ہیں۔ ان ممالک میں لیبیا، جنوبی سوڈان اور شمالی کوریا شامل ہیں۔