ایرانی بمبار کشتی کا خلیج میں برطانوی جنگی جہاز کے قریب آنے کا انکشاف
برطانوی اخبار 'ڈیلی مرر' نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کو خلیج عرب کی طرف جانے والے برطانوی بحری جنگی جہاز "ایچ ایم ایس ڈنکن 45'' کو مبینہ طور پر ایران کی ایک بمبار کشتی نے روکنے کی کوشش کی تھی۔
اخبار کی ویب سائٹ پر پوسٹ خبر کے مطابق جب برطانوی بحری جہاز موجود عملے کو علم ہوا کہ بحر احمر میں بارود سے لدی ایرانی کشتی موجود ہے تو جہاز کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی بارود سے لدی کشتی کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے تباہ کیا جانا تھا۔ یہ کشتی برطانوی بحری جنگی جہاز سے صرف چار میل کے فاصلے پر تھی۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ کشتی یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی طرف سے بھیجی گئی تھی۔
خیال رہے کہ برطانوی جنگی جہاز 'ڈنکن 45' نہر سویز سے گذرنے والے 'ایچ ایم ایس مونٹروز' کے ساتھ شامل ہونے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
'ایچ ایم ایس ڈنکن' برطانیہ کا جدید ترین جنگی بحری جہاز ہے جسے خلیج میں موجود برطانوی بیڑے کی معاونت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ گذشتہ مئی میں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیٹریاٹ میزائل بھی خطے میں نصب کر دیے تھے۔
-
امریکا اور ایران کا جنگ کی طرف بڑھنا بہت بڑی تباہی کو دعوت دینا ہے: فرانس
یورینیم افزودگی بڑھانے کا ایرانی اقدام بُرے فیصلے کا برا رد عمل ہے
بين الاقوامى -
برطانیہ نے تحویل میں لئے گئے ایرانی سپر ٹینکر واپسی کی شرائط بتا دیں
برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے انہیں ...
بين الاقوامى -
جبرالٹر نے ایرانی آئل ٹینکر کے عملے کو رہا کر دیا
جبرالٹر نے ایرانی آئل ٹینکر کے عملے کے چار افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ حکام ...
بين الاقوامى