شام میں امریکی شہری کی رہائی
امریکی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسے شام میں امریکی شہری کی رہائی کی خبر کا علم ہو چکا تھا تاہم اس نے "پرائیویسی" سے متعلق وجوہات کے سبب کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اپنے اُن شہریوں کی محفوظ رہائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے جن کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ شام میں لا پتہ ہو گئے ہیں یا انہیں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایک لبنانی سیکورٹی ذمے دار نے جمعے کے روز بتایا کہ شامی حکومت نے لبنانی وساطت کے بعد ایک امریکی شہری کو رہا کر کے اسے اپنے گھر والوں کے حوالے کر دیا۔
لبنانی ذمے دار نے رہائی پانے والے امریکی کا نام نہیں بتایا تاہم اس کے والدین کے بیان کے مطابق 30 سالہ امریکی کا نام سام جوڈوین ہے۔
سام کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کے ممنون ہیں جنہوں نے ان کو ایک بار پھر اپنے بیٹے کے ساتھ اکٹھا کر دیا۔ سام اپنے گھر والوں کے ساتھ ہے اور اس کی صحت بھی ٹھیک ہے۔
مذکورہ سیکورٹی ذمے دار کے مطابق لبنان کی جنرل سیکورٹی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عباس ابراہیم نے وساطت کی کوششیں انجام دیں۔ لبنانی ذمے دار نے اس امر کی تردید کی کہ رہائی پانے والا شخص امریکی صحافی آسٹن ٹائز ہے جو 2012 سے شام میں لا پتہ ہے۔