ایمنسٹی کی ایران میں قیدیوں کے قتل عوام کے دفاع پر شدید تنقید
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم' ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے ایرانی جوڈیشل کونسل کے مشیر اور سابق وزیر قانون مصطفیٰ بور محمدی کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے سنہ 1988ء میں قیدیوں کے اجتماعی قتل عام کی حمایت قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے قائم کردہ 'ڈیتھ کمیٹی' درست قراردیا تھا۔
خیال رہے کہ مصطفیٰ بور محمدی خود بھی اس بدنام زمانہ 'ڈیتھ اسکواڈ' میں شامل رہ چکے ہیں جو ایران میں قیدیوں کو ماورائے عدالت قتل کے لیے قائم کی گئی تھی۔
مصطفیٰ بور محمدی نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ قیدیوں کے قتل عام کے لیے قائم کردہ 'ڈیتھ کمیٹی' آئین اور قانون کے تحت قائم کی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1988ء میں قائم کی گئی ڈیٹھ کمیٹی ماورائے قانون تھی اور اس کا دفاع کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس کمیٹی کا دفاع کرنا قیدیوں کو ماوروائے عدالت اجتماعی سزائیں دینے کے مترادف ہے۔
بور محمدی نے 25 جولائی کو بنیاد پرستوں کے ترجمان جریدے 'مثلث' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈیتھ کمیٹی نے مجاھدین خلق اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قید کیے گئے مجرم ارکان کو سزائے موت دینے کی مجاز تھی۔ ان قیدیوں کو جنگ کی حالت میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ڈیٹھ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا وہ مجرم اور دہشت گرد تھے، نیز اس کمیٹی میں شامل تمام افراد مجاھدین خلق کے گرفتار ارکان کو سزائے موت دینے کے اہل تھے۔
-
پاسداران انقلاب ایران کی برطانوی جنگی جہاز سے ریڈیو مکالمے کی فوٹیج جاری
ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے برطانیہ کے ایک جنگی بحری جہاز کے عملہ سے مکالمے ...
مشرق وسطی -
ایران کی یورپ کو ایک بار پھر'جوہری سرگرمیاں' تیز کرنے کی دھمکی
ایران نے ایک بار پھر یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکا کی طرف سے ...
مشرق وسطی -
ایران نے 300 کلو گرام کے بجائے 24 ٹن یورینیم افزودہ کر لیا
ایران میں ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک ...
مشرق وسطی