شام: ادلب میں ترکی کی سب سے بڑی چیک پوسٹ بشار کی فوج کے محاصرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں بشار کی فوج نے جمعے کو علی الصبح حماہ کے دیہی علاقے میں کفرزیتا قصبے اور مورک گاؤں میں ترکی کے عسکری چیک پوائنٹ کے مشرق میں واقع ٹیلوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق شامی فوج جمعے کے روز ادلب کے جنوب میں واقع ترکی کے عسکری چیک پوائنٹ کا محاصرہ کر لینے میں کامیاب ہو گئی۔

یہ ادلب اور اس کے اطراف میں سب سے بڑا چیک پوائنٹ شمار ہوتا ہے جہاں مجموعی طور پر ترکی کی فوج کے 12 ٹھکانے موجود ہیں۔ ان چیک پوائنٹس کا قیام ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے۔

جمعے کے روز شمالی حماہ کے دیہی علاقے میں شامی حکومت کی فورسز کے ہاتھ میں آنے والے اہم ترین قصبوں میں اللطامنہ اور كفرزيتا ہیں جو 2012 سے شامی اپوزیشن کے گروپوں کے کنٹرول میں تھے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بشار کی فوج نے اس وقت مورک میں ترکی کی عسکری چیک پوائنٹ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اس سے قبل شامی فوج نے ادلب کے جنوب میں حماہ کے شمالی دیہی علاقے کے اندر محصور پٹی میں واقع تمام دیہات اور قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

اسی طرح المرصد نے مزید بتایا کہ کفرزیتا اور اللطامنہ کے قصبوں کو کنٹرول میں لینے کے بعد 5 اگست کو فائر بندی ختم ہونے کے وقت سے روسی فوج کی معاونت کے ذریعے بشار کی فوج کے پاس واپس آنے والے علاقوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اب تک شامی فوج کے کنٹرول میں آنے والے علاقوں میں الاربعین، الزکات، الصخر، الجیسات، الصیاد، تل الصیاد، خان شیخون، السکیک، ترعی، الہیبط، عابدین، مغر الحمام، مغر الحنطہ، کفرعین، عاس، مدایا، المردم اور المنطار ، کفریدون اور الصباغیہ کے کھیت شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں