.

عراق میں ایرانی ملیشیائوں کی سرگرمیوں پرامریکا کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عراق میں اسلحہ کے گوداموں میں ہونے والے دھماکوں میں امریکا کا ہاتھ ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ عراق میں اسلحہ مراکز پربمباری اور دھماکوں کا امریکا پرالزام غلط، گمراہ کن اور اشتعال انگیز ہے۔

عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا کےعسکری کیمپوں میں میں ہونے والے پُراسرار دھماکوں اور امریکی نائب صدرمائیک پنس کی طرف سےدی جانے والی دھمکیوں کے بعد حالات مزید مخدوش ہوگئے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کے خلاف اقدامات پرغور کر رہا ہے۔ پنس کا کہنا ہے کہ عراق میں ایرانی ملیشیائوں کے اثرو نفوذ کوکم کرنے کے لیے امریکا نئی حکمت عملی مرتب کرے گا۔

ادھرعراق کے وزیر اعظم عادل المہدی نے کہا ہے کہ عراق کے اندر کسی بھی جارحیت کا بھرپور طریقے سے جواب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل عراق میں شام کی سرحد پر الحشد الشعبی ملیشیا کے اسلحہ کے مراکز ڈرون طیاروں کی مدد سے حملے کیے گئے تھے۔ عراق میں الحشد ملیشیا مراکز پربمباری کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ حالیہ عرصے میں اس طرح کےکئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔