فلاشا یہودیوں کے احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں ایتھوپیائی وزیراعظم کا دورۂ اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اسرائیل میں ایتھوپیا کی فلاشا نسل کے یہودیوں کے نسلی پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں افریقی ملک ایتھوپیا کے وزیراعظم آبی احمد سرکاری دورے پر تل ابیب پہنچے ہیں۔ اپریل 2018ٰء میں اقتدار پر فائز ہونے والے ابی احمد کا اسرائیل کا یہ پہلا دورہ ہے۔

آبی احمد اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاھو اور صہیونی ریاست کے صدر روئوفین ریفلین سے ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور ایتھوپیا کے درمیان دیرینہ دوطرفہ سفارتی تعلقات ہیں۔ ایتھوپیا نے سنہ 1950ء کے عشرے میں اسرائیل کوتسلیم کرلیا تھا مگر دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1984ء میں دوطرفہ تعلقات میں اس وقت ڈرامائی تبدیلی آئی جب ایتھوپیا کے صدر مانگسٹو ہایلی مریام نے فلاشا نسل کے یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔

دو ماہ قبل اسرائیلی پولیس نےفلاشا نسل کے ایک سیاہ فام یہودی کو گولیاں مار کرہلاک کردیا تھا تو پورے ملک میں فلاشا یہودیوں نے پرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس وقت اسرائیل میں فلاشا یہودیوں کی آبادی ایک لاکھ 40 ہزار ہے جن میں 50 ہزار اسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں