ایرانی رجیم کے تشدد اور مظالم پر سماجی کارکن پھٹ پڑا
'ایران میں ظلم کی سیاہ رات مسلسل پھیل رہی ہے'
ایران میں انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس حکام نے دو ماہ کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ اعلی خامنہ ای کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے 16 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
خامنہ ای کے استعفے کے مطالبے پرمبنی دو بیانات پردستخط کرنے والوں میں 86 سالہ محمد ملکی نامی شہری کی ایک فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں اسے استعفیٰ مانگنے والے شہریوں کی گرفتاریوں اور ان پر ظلم کی شدید مذمت کی ہے۔
ملکی کا کہنا ہےکہ نام نہاد عدالتوں کی طرف سے خامنہ سے استعفیٰ طلب کرنے والوں کی گرفتاریوں کے احکامات بدترین ظلم ہے۔ ایرانی رجیم عام شہریوں، سماجی کارکنوں، سیاسی رہ نمائوں، مزدور طبقہ افراد کو خواتین کو حراست میں لے کر ان پرظلم ڈھا رہی ہے۔
ویڈیو فوٹیج میں محمد ملکی نے سپریم لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'میں ایرانی رجیم اور جناب علی خامنہ ای سےکہتا ہوں کہ قوم پرظلم وجبرکا سلسلہ بند کردیں۔ قوم پرظلم اور تشدد کرنے کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ لوٹ مار، جرائم اور کرپشن کب تک چلتی رہے گی' خدا کے لیے اب یہ سب جرائم بند کردو، ظلم روک دو۔ ایران میں نہتے شہریوں پر ظلم میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے'۔
الناشط المدني #محمد_ملكي أحد الموقعين على "#بيان_تنحي_المرشد"، الذي لم يتم اعتقاله بعد، يقول لخامنئي، على مواقع التواصل الاجتماعي إن الظلم والفساد والأذى ضد المواطنين يزيد شيوعًا في #إيران يومًا بعد يوم.
— Iranintl إيران إنترناشيونال-عربي (@IranIntl_ar) September 2, 2019
يذكر أنه تم اعتقال 9 حتى الآن، من بين 14 ناشطًا، وقّعوا على بيان تنحي المرشد pic.twitter.com/J6hDxDV5Mj
خیال رہے کہ ایران کے 14 سماجی اور سیاسی کارکنوں نے11 جون کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں موجودہ ایرانی رجیم کو استبدادی نظام سے تشبیہ دینے کے ساتھ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایرانی پولیس اورانٹیلی جنس اداروں کی طرف سے اصولی مطالبات پیش کرنے اپنا کرب بیان کر نے والے شہریوں کو حراست میں لے کرانہیں اذیتوں کا نشاہ بنانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔