عراقی لیڈرمقتدیٰ الصدر یومِ عاشور پر ایران کے رہبرِ اعلیٰ سے ملاقات کے لیے کیوں گئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق کے معروف بااثر شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے یومِ عاشور پر تہران میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔ان کی اس ملاقات کی تصاویر خامنہ ای کی سرکاری ویب گاہ پر جاری کی گئی ہیں۔اس میں ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدے دار اور فوجی کمانڈر بھی نظر آرہے ہیں۔وہ سب یومِ عاشور پر تہران میں منعقدہ ایک مرکزی تقریب میں شریک ہیں۔

مقتدیٰ الصدر عراق پر امریکا کی چڑھائی کے بعد ایران کے قریبی اتحادی رہے تھے لیکن حالیہ برسوں کے دوران میں ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور ان میں دوریاں پیدا ہوچکی ہیں۔

انھوں نے عراق کی مسلح شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشدالشعبی کو اپریل میں ایران میں سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں کے لیے بھاگ دوڑ پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا عراقی عوام کے مصائب ومشکلات کو نظر انداز کرکے کیا ہے۔

انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’سیلاب سے متاثرہ عراقیوں کے مسائل کم ہوجاتے ہیں تو پھر ہم ایران یا کسی بھی اور ہمسایہ ملک کی مدد کو تیار ہیں۔‘‘

مقتدیٰ الصدر عراق میں ایرانی اثرات کے بھی ناقد رہے ہیں اور انھوں نے عراق میں 2018ء میں منعقدہ انتخابات میں قومیت پرستی کے علمبردار پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا۔ان کے بلاک نے پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں اور وہ حکومت کی تشکیل کا حق دار ٹھہرا تھا۔

انھوں نے جولائی 2017ء میں سعودی عرب کا بھی دورہ کیا تھا اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ان کا گیارہ سال کے بعد سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ تھا۔

بعض تجزیہ کاروں نے اس شُبے کا اظہار کیا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کو ان کے ایران اور اس کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کے خلاف حالیہ بیانات کے بعد تہران میں طلب کیا گیا ہے۔

انھوں نے الحشد الشعبی کے سخت گیر گروپوں کے خلاف حال ہی میں ٹویٹر پر ایک مہم برپا کی تھی اور عراقی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عراق ایک ’’بھوت‘‘ ریاست بنتا جارہا ہے۔

البتہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کی تہران میں موجودگی ان پرالحشد الشعبی کے سیاسی بازو فتح کے مقابلے میں ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اعتماد کی مظہر ہے۔بعض نے اس امر پر بھی تعجب اظہار کیا ہے کہ مقتدیٰ الصدر یوم عاشور ایسے اہم موقع پر عراق سے باہر تھے جبکہ خود عراق اور دنیا بھر سے لاکھوں اہلِ تشیع حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی یاد منانے کے لیے کربلا میں آئے تھے۔

مقتدیٰ الصدر کی علی خامنہ ای سے ملاقات میں جو اہم شخصیات نظر آرہی تھیں ، ان میں ایرانی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی ، سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی ،پاسداران کے سربراہ حسین سلامی اور اس کی فضائی فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں