ایران کو راضی کرنے کی پالیسی نے اس کی معاندانہ روش میں اضافہ کیا: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایران کو راضی کرنے کی پالیسی نے تہران کے مخالفانہ طرز عمل کو تقویت دی ہے۔

'فاکس نیوز' کودیئے گئے ایک انٹرویو میں کہاسعودی وزیر برائے امور خارجہ کہا کہ پچھلے چالیس سال کے دوران ایرانی تاریخ جارحیت پرمبنی چلی آ رہی ہے۔ بالخصوص ایران کا سعودی عرب کے خلاف رویہ مسلسل معاندانہ اور جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔

الجبیر نے یہ بھی واضح کیا کہ سوئفٹ (بینکوں کے ذریعہ فنڈز بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے استعمال ہونے والا عالمی نظام)ایران کی خوش نودی کے لیے تیار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کچھ ایران کو کریڈٹ یا قرض دینے کے بارے میں بات کی جاتی اس کا مقصد ایران کو اطمینان اور تسلی دینا ہوتا ہے۔ اس سے ایران کے معاندانہ طرز عمل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہےنتیجے میں ایرانی طرز عمل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف پہلا قدم تہران کو جنگ اور جارحیت سے روکنا ہونا چاہیے۔

مملکت کے خلاف جارحانہ ایرانی پالیسی کی تاریخ

سعودی عرب کے وزیر برائے امور خارجہ نے کہا کہ گذشتہ 40 سال میں ایران کی تاریخ خاص طور پر سعودی عرب کے خلاف جارحانہ رہی ہے۔ ایران نے ہمارے سفارت خانوں پر حملہ کیا ، حج پر تخریب کاری کی کوشش کی۔ متعدد ممالک میں ہمارے سفارتکاروں کو قتل کیا۔ مملکت میں دہشت گردوں کے سیل قائم کیے۔سنہ1996ء میں الخبر میں بم دھماکے کرائے۔ یوں ایرانی تخریب کاری اور دشمنی کی فہرست مسلسل طول پکڑتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ انقلاب بچانا چاہتا ہے یا ریاست۔ اگر وہ ریاست بچانا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی قوانین ، اقوام کی خودمختاری کے اصولوں کی پابندی کرنی ہوگی اور دوسری ریاستوں کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کا احترام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ، "ہم ایران کے جارحانہ سلوک پر قابو پانے کے لیے عالمی کوششوں کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں