حماس نے قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کی کوشش کی مذمت کر دی
فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک آپریشنز کے نگران شعبہ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے جمعے کے روز ایک اخباری بیان میں کہا کہ سلیمانی کو ہلاک کرنے کی کوششیں صرف صہیونی منصوبے کے کام آئیں گی۔
یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز دعوی کیا تھا کہ قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اس کوشش پر عمل کرنے والے افراد کے مجموعے کو پکڑ لیا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے کمانڈر حسین طائب کے مطابق اس کوشش کے دوران ایک امام بارگاہ کے نیچے موجود سرنگ کو دھماکے سے اڑؑا دینا تھا۔ یہ امام بارگاہ کرمان شہر میں قاسم سلیمانی کے والد کی ملکیت ہے۔
ایران میں کئی ذمے داران حماس، الحشد الشعبی اور حزب اللہ کے لیے اپنی حمایت کو دہرا چکے ہیں۔ اس حوالے سے ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد کے امام آیت اللہ احمد علم الہدی نے چند روز پہلے اقرار کیا تھا کہ ایران ک رقبہ اس کی "جغرافیائی" سرحدوں سے زیادہ بڑا ہے۔ علم الہدی کا اشارہ اُن ایرانی ملیشیاؤں کے ونگز کی جانب تھا جن کو تہران سپورٹ کرتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ISNA کے مطابق قدامت پرست آیت اللہ احمد علم الہدی کا کہنا تھا کہ "آج کا ایران اپنی جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں ہے۔ عراق میں الحشد الشعبی، لبنان میں حزب اللہ، یمن میں انصار اللہ (حوثی باغی) ، شام میں نیشنل ڈیفنس فورسز اور فلسطین میں اسلامی جہاد اور حماس تنظیم ،،، یہ سب ایران ہیں"۔
اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ "محض خطے میں موجودگی پر اکتفا نہ کریں بلکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے موجودہ پوزیشنوں سے آگے اپنے پھیلاؤ کو یقینی بنائیں"۔ خامنہ ای نے یہ بات بدھ کے روز پاسداران انقلاب کی قیادت سے خطاب میں کہی جو ان کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔ ایرانی سپریم لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ یہ سرحد پار وسیع ویژن اور تزویراتی گہرائی کا پھیلاؤ ملک کے لیے اولین فرائض میں سے ہے۔
اسی طرح حماس نے امریکا کی جانب سے ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے پر اپنی مذمت کا اظہار کیا تھا۔ رواں سال اپریل میں جاری ایک بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ "ڈٹ جانے والے عناصر کو نشانہ بنایا جائے"۔ حماس کے مطابق امریکی فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ موجودہ (امریکی) انتظامیہ صہیونی مفاد کے واسطے متحرک ہے۔
دوسری جانب حماس تنظیم میں بین الاقوامی تعلقات کے بیورو کے سربراہ موسی ابو مرزوق نے جولائی میں ایک بیان میں کہا کہ حماس اور ایران کے تعلقات بہترین صورت اختیار کر چکے ہیں۔