مظاہرین پر تشدد ناقابل قبول ہے: آیت اللہ علی السیستانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق کے سرکردہ شیعہ عالم دین آیت اللہ علی السیستانی نے مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین کچھ علاقوں میں جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے تشدد کے استعمال کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اسلحہ کا استعمال کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں علی السیستانی نے کہا کہ پرامن مظاہرین اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات قابل مذمت ہیں۔ مظاہرین کے خلاف تشدد کے خطرناک اور سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

کربلا میں شیعہ مذہبی اتھارٹی نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرے۔ اس سے قبل کے دیر ہو جائے حکومت کو اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے مظاہرین کی بات سننا ہو گی۔

خطاب جمعہ کے بعد السیستانی کے نمائندہ احمد الصافی نے کہا کہ "پرامن مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز پر پرتشدد حملے ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے فرائض کی تکمیل کرے اور عوامی خدمات میں بہتری لانے اور بیروزگاروں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ عوام میں پائے جانے والے غم وغصے پر قابو پایا جا سکے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عراقی پولیس ذرائع اور طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز سے جاری پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 44 ہو گئی ہے جب کہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ سب سے زیادہ اموات جنوبی شہر ناصریہ میں ہوئیں جہاں 18 افراد کی اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے بعد دارالحکومت بغداد میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں