.

شمالی شام میں موجود تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام میں موجود اپنے تمام فوجیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ایک امریکی عہدہ دار نے بتایا ہے کہ شام کے شمالی علاقے میں موجود قریباً ایک ہزار فوجیوں کا انخلا ہوجائے گا اور شام کے جنوب میں التنف کے فوجی اڈے پر صرف ڈیڑھ سو فوجی باقی رہ جائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوج کی کردملیشیا کے خلاف کارروائی کے بعد اپنے فوجیوں کے انخلا کا حکم دیا تھا۔ امریکی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ اب ہم اس حکم کی تعمیل کررہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ہے کہ کردوں کے زیر قیادت فورسز شام کے شمال مشرقی علاقے سے شاید خود ہی داعش کے جنگجوؤں کو رہا کررہی ہیں تاکہ امریکی فوجیوں کو علاقے میں موجود رہنے پر آمادہ کیا جاسکے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ داعش کے فرار ہونے والے جنگجوؤں کو بآسانی دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

ترک فوج کی شمالی شام میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ داعش کے جنگجو دوبارہ منظم ہوسکتے ہیں۔داعش کے ہزاروں خاندان کردوں کے زیر انتظام جیلوں اور حراستی کیمپوں میں بند ہیں مگر گذشتہ دو تین روز میں ان میں سے سیکڑوں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

امریکی وزیردفاع مارک ایسپر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے شمالی شام میں موجود باقی فوجیوں کے انخلا کا حکم دیا ہے کیونکہ امریکا اپنے دو اتحادیوں کے درمیان لڑائی میں الجھنا نہیں چاہتا ہے۔ ان کا اشارہ امریکا کے نیٹو اتحادی ترکی اور شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کی جانب تھا۔ البتہ مارک ایسپر نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ آیا امریکی فوجیوں کا شام سے مکمل طور پر انخلا ہوگا یا انھیں شام کے جنوب میں ایک اور فوجی اڈے پر منتقل کردیا جائے گا۔

ایس ڈی ایف نے ماضی میں شام کے ان علاقوں میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کے اہم اتحادی کا کردار ادا کیا تھا اور امریکا نے کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل اس ملیشیا ہی کو تربیت دے کر اور بروئے کار لاکر داعش کو شکست سے دوچار کیا تھا۔اب صدر ٹرمپ کے ناقدین ان پر ایس ڈی ایف کی حمایت سے دستبرداری کاالزام عاید کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ صدر نے کرد ملیشیا کو ترک فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔