.

سعودی عرب اور برازیل باہمی تعلقات مضبوط بنانے پرمتفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے برازیل کے صدر جیئر بولسونارو سے ملاقات کی ہے۔ سعودی عرب اور برازیل کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں فریقین نے دونوں دوست ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا ... اور ساتھ ہی تربیت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق رائے کیا۔ فریقین نے باور کرایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف سطحوں پر دوروں کا تبادلہ باہمی خصوصی تعلقات کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا۔

سعودی عرب اور برازیل نے دونوں ملکوں میں سرکاری ذمے داران اور نجی سیکٹر کے درمیان رابطوں اور تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کا مقصد دو طرفہ تعلقات کے دائرہ کار کو گہرا اور وسیع بنانا اور متبادل سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

فریقین نے تعاون اور سرمایہ کاری کے واسطے مشترکہ اہمیت کے کئی شعبوں کا تعین کیا۔ ان میں زراعت، صنعت، توانائی، کان کنی، انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور سائنس و ٹکنالوجی شامل ہے۔ اسی طرح دونوں ملکوں نے جوہری توانائی کے پر امن استعمال، ثقافتی تعاون، بیرونی خلا اور کھیل کے میدانوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس کا مقصد سعودی عرب اور برازیل کے درمیان اقتصادی شراکت کو سپورٹ کرنا ہے۔

فریقین کے درمیان بات چیت میں بین الاقوامی امن و امان اور استحکام سے متعلق مشترکہ دل چسپی کے امور بھی زیر بحث آئے۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور انتہا پسندی کے انسداد کے حوالے سے بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ فریقین کے مطابق دہشت گردی کا کسی نسل، دین یا وطن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی صدر جیئر بولسونارو سے ملاقات کی۔ بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو ترقی دینے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں شخصیات نے سرمایہ کاری بڑھانے کی اہمیت باور کراتے ہوئے اُن دشواریوں پر قابو پانے کے لیے کام کرنے پر زور دیا جو تجارتی تبادلے کے حجم میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

سعودی ولی عہد اور برازیل کے صدر نے توانائی کی سیکورٹی برقرار رکھنے، خلیج اور بحر عرب میں سمندری گزر گاہوں کو محفوظ بنانے اور مشرق وسطی کے استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق رائے کیا۔

سعودی فرماں روا اور برازیل کے صدر کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے متعدد سمجھوتوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ان شعبوں میں دفاع اور توانائی کے علاوہ کسٹم اور ویزوں سے متعلق امور شامل ہیں۔