جدہ کے بلند ترین فوارے سے آسمانی بجلی کے ہم آغوش ہونے کے مناظر
دو روز قبل سعودی عرب کے شہر جدہ میں گھنے بادلوں اور اس کے بعد گرج چمک کے ساتھ بارش کے سہانے رومانوی موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک مقامی فوٹو گرافر نے اس موسم کے دل کو چھو لینے والے کچھ مناظر اپنے کیمرے میں محفوظ کیے ہیں۔
سعودی عرب کے مغربی شہر جدہ میں بحر احمر کے کنارے پر واقع دنیا کے بلند ترین فوارے سے ہم آغوش ہونے والی آسمانی بجلیوں کے مناظر سیاحوں اور مناظر فطرت کے شائقین کے لیے غیرمعمولی توجہ کا باعث بنے۔
سوسائٹی آف کلچر اینڈ آرٹس کے ایک رکن فوٹوگرافر عادل محمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ میں جدہ کے جنوب سے بارش کے بادلوں کا تعاقب کرتے ہوئے شاہ فہد فوارے جسے فوارہ جدہ بھی کہا جاتا کے قریب پہنچ گیا۔ یہ رات 9 بجے کا وقت تھا۔ آسمان پر بادل گرج اور بجلیاں چمک رہی تھیں۔ میں فوارے کے قریب تصاویر لینے کے لیے پوزیشن میں بیٹھ گیا۔ اگلے چند لمحات میں میری خواہش پوری ہوگئی کیونکہ بجلیاں چمکنا شروع ہوگئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آسمانی بجلی کا تعاقب کرنا میرا بہت پرانا اور بچپن کا شوق ہے۔ میں اپنے اس شوق کی عکس بندی کرنے اور سعودی شہروں میں مشہور ثقافتی مراکز کے ساتھ بجلی کی تصاویر کھنچوانے کا موقع ضائع نہیں ہونے دیتا۔
سعودی فوٹو گرافر کا کہنا تھا کہ موسمی حالات مجھے بجلی کے مقامات کی پیش گوئی کرنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔ میں اس تاک میں رہتا ہوں کہ کب اور کہاں بارش ہوتی ہے اور آسمانی بجلی کیسے کیسے مناظر کشید کرتی ہے۔ مجھے ان مناظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ بنانا ہوتا ہے۔