.

ایرانی جلادوں کا نہتی سماجی کارکن پر جیل میں وحشیانہ تشدد

نرجس محمدی کا جیل سے خفیہ ذرائع سے مکتوب جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جیل میں قید ایک سرکردہ خاتون سماجی کارکن نرجس محمدی پر ایرانی جلادوں کی طرف سے وحشیانہ تشدد کا انکشاف کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ایرانی حکام نے نرجس پر تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تہران میں قائم بدنام زمانہ جیل'ایفین' میں قید نرجس محمدی کا مکتوب خفیہ ذرائع سے لیک ہوا ہے جس میں اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور تشدد کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ نرجس کا کہنا ہے کہ دوران حراست ایرانی جیلروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بے دردی کے ساتھ اسے مارا پیٹا گیا، تاہم ایرانی حکام کی طرف سے نرجس کے دعوے کو مسترد کردیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں کی ویب سائٹس پر شائع نرجس محمدی کے مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ اسے اور اس کی دیگر خاتون ساتھیوں کو اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے نومبرمیں ہونے والے مظاہروں کے دوران مارے جانے والوں کے چہلم پر بھوک ہڑتال کرنے اور دیگر اسیرات کے ساتھ اکٹھے بیٹھنے کی کوشش کی تھی۔ چہلم پر سات خواتین قیدیوں نےبھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نرجس محمدی نے بتایا کہ مجھے بدھ کےروز جیل کے کمرے سے سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں لے جایا گیا۔ اس موقع پرکئی انٹیلی جنس اہلکار اور جلاد صفت تفتیش کار بھی ساتھ تھے۔ مجھے وہاں پر بری طرح مارا پیٹا گیا اور گالیاں دی گئیں۔ اس کے بعد مجھے ایفین جیل سے 'زنجان' نامی ایک دوسرے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں ڈال دیا گیا۔

نرجس محمدی نے بتایا کہ گالیوں اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے باوجود میں نے خواتین کی بیرک میں جانے کی کوشش کی تو جیل کے سپرنٹنڈنٹ غلام رضا ضیائی اور 20 جیل اہلکاروں جن میں مرد اور عورتیں تھیں مجھے پھر دبوچ لیا۔ انہوں نے مجھے میرے بازئوں سے پکڑکرجیل کی گیلریوں میں مجھے گھیسٹا۔ میرے دونوں ہاتھ ٹوٹے شیشوں پر مارے گئے جس سے میرے ہاتھ خون آلود ہوگئے۔ اس کے بعد مجھے اٹھا کر ایک ایمبولینس میں پھینک دیا گیا۔ غلام رضا ضیائی نے خود مجھے پکڑکر گاڑی میں پھینکا۔

عوام کے نام جاری پیغام میں نرجس محمدی نے بتایا کہ میرے پاس جو کچھ تھا مجھ سے چھین لیا گیا۔ حکومت کے غلام اور گماشتے مجھ سے میرے جذبات بھی سلب کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر میں بچوں کو قربان قربان کرنےوالی مائوں، آزادی کے لیے سرگرداں مردوں اور غم وغصے کا شکارعوام کے ساتھ ہوں۔ ہم ایک بار پھر اٹھیں گے اور حکومت کے مظالم پر آواز بلند کریں گے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مکتوب کے بعد ایرانی حکام نے ایفین جیل میں نرجس محمدی اور کسی دوسرے قیدی پر تشدد کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نرجس محمدی کی ایفین جیل سے زنجان منتقلی کے عمل میں اس کے ساتھ کوئی غیرانسانی سلوک نہیں کیا گیا۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کا کہنا ہے کہ نرجس محمدی کو تشدد کا نشانہ بنائے کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔