.

ایران نے یوکرین کا طیارہ میزائل لگنے سے گرنے کا امکان مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اس مفروضے کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ بدھ کی صبح تہران کے نزدیک گر کر تباہ ہونے والے یوکرین کے مسافر طیارے کا حادثہ کسی میزائل کے لگنے کے سبب پیش آیا۔ ایرانی حکومت کے مطابق اس سلسلے میں جلتی پر تیل چھڑکنے کے مقصد سے سامنے آنے والے تمام مغربی بیانات ایران کے خلاف "نفسیاتی جنگ" ہے۔

یہ موقف ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی کی زبانی جمعرات کی شب سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان کے ذریعے سامنے آیا۔ ربیعی نے واضح کیا کہ وہ تمام ممالک جن کے شہری اس طیارے میں سوار تھے وہ اپنے نمائندوں کو بھیج سکتے ہیں ،،، ہم بوئنگ کمپنی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے نمائندوں کو بھیجے تا کہ وہ طیارے کے بلیک بکس کے معائنے کے عمل میں شامل ہو سکیں۔

دریں اثنا ایرانی سول ایوی ایشن کے سربراہ علی عابد زادہ نے جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس میں باور کرایا ہے کہ یوکرین کے طیارے کو میزائل لگنے کا امکان تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "یوکرین کے طیارے میں ایک منٹ سے زیادہ دورانیے تک آگ لگی رہی ، اگر اس کو میزائل ٹکراتا تو طیارہ فور طور پر دھماکے سے پھٹ جاتا"۔

عابد زادہ کا کہنا تھا کہ "ہم طیارے کے بلیک بکس کے تجزیے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں یوکرین سے معاونت لی جائے گی .. یوکرین کے ماہرین سے بات کرنے کے بعد ہم اپنے ملک میں ہی بلیک بکس کا تجزیہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ،،، البتہ اگر ضرورت پڑی تو اس حوالے سے کوئی دوسرا فیصلہ کیا جائے گا اور ایسی صورت میں ہم بلیک بکس کو روس یا کینیڈا بھیج سکتے ہیں"۔

ایرانی سول ایوی ایشن کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ طیارے کے گرنے سے قبل کپتان نے مدد طلب کی تھی ۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی نے جمعے کے روز کہا ہے کہ وہ اس امر کو خارج از امکان نہیں سمجھتے کہ بدھ کے روز ایران میں گر کر تباہ ہونے والا یوکرین کی فضائی کمپنی کا طیارہ میزائل کا نشانہ بنا۔

یوکرین کے صدر کے مطابق وہ جمعے کو کسی وقت امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انٹیلی جنس معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ طیارے کو روسی ساختہ ایرانی میزائل نے نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا شاید غیر ارادی طور پر ہو گیا۔

اس کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا بھی یہ بیان سامنے آیا کہ "ایسی اطلاعات ہیں کہ اس طیارے کو ایرانی حدود میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے ایک میزائل کے ذریعے گرایا گیا اور شاید یہ غلطی سے ہوا ہو گا"۔

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودراں نے جمعے کے روز ایک ریڈیو سے بات چیت کے دوران اعلان کیا کہ اُن کا ملک ایران میں گر کر تباہ ہونے والے یوکرین کے طیارے کے حوالے سے تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے کو جلد از جلد اور حتی الامکان طور پر واضح کیا جائے۔

یاد رہے کہ جمعرات کے روز کئی امریکی ذمے داران نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو باور کرایا کہ یوکرین کا مسافر طیارہ "غالبا دو ایرانی میزائلوں کے لگنے سے" گر کر تباہ ہوا۔ مذکورہ افراد کا خیال ہے کہ ایران نے غلطی سے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرایا۔ بدھ کو علی الصبح پیش آنے والے واقعے میں طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔