سلیمانی نے قتل سے قبل یمن کا دورہ کیا تھا: یمنی عہدیدار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے ایک سینیر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے تین جنوری کو بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ہلاکت سے کچھ عرصہ قبل یمن کا بھی دورہ کیا تھا۔

یمنی عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کےمآرب اور الجوف میں ہونےوالے حملوں کا قاسم سلیمانی کے ساتھ تعلق تھا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں میں سرگرم 'القدس' فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکا نے تین جنوری 2020ء کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب میزائل حملے میں ہلاک کردیا تھا

الحدیدہ کے ڈپٹی گورنر ولید القدیمی نے ہفتے کے روز بتایا کہ سلیمانی نے اپنی ہلاکت سے اڑھائی ماہ قبل یمن کا دورہ کیا تھا۔ وہ الحدیدہ بندرگاہ کے راستے یمن میں داخل ہوا اور وہاں سے وہ صنعاء پہنچا جہاں اس نے حوثی ملیشیا کی لیڈرشپ سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

القدیمی نے اپنی ٹویٹس میں بتایا کہ قاسم سلیمانی کے دورہ صنعاء کا مقصد حوثی باغیوں کے مآرب، الجوف اور نھم کے محاذوں پر آئینی حکومت کی حامی فوج کے خلاف حملوں میں مدد کرنا تھا۔ حوثی ملیشیا کی طرف سے یہ کارروائی سلیمانی کے منصوبے کی روشنی میں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا نے نہ صرف نھم، مآرب اور الجوف کے باشندوں سے سلیمانی کےقتل کا انتقام لیا بلکہ وہ پوری قوم سے سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لے رہےہیں۔

الحدیدہ کے ڈپٹی گورنرکا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا اپنے عسکری زعم میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ سلیمانی کا منصوبہ بھی اس کی ہلاکت کےپہلے ہی روز یمن میں پِٹ گیا ہے۔

القدیمی نے بتایا کہ سلیمانی اور حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کے درمیان ملاقات نہیں ہوسکی کیونکہ عبدالملک الحوثی اس وقت یمن نہیں بلکہ ایران میں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں