.

عراق : مظاہروں سے بھڑکے ہوئے جنوبی صوبے غربت میں سرِفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بالخصوص بغداد اور جنوبی صوبوں میں عوامی "احتجاجی تحریک" کے آغاز کو چار ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں تاہم مظاہرین ابھی تک اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان مطالبات میں نئی حکومت کی تشکیل کے واسطے ایک آزاد شخصیت کی بطور وزیراعظم نامزدگی سرفہرست ہے۔ عوام نے نامزد وزیراعظم محمد علاوی کے حالیہ بیان کے باوجود اُن کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ علاوی نے اپنے بیان میں عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی حکومت مظاہرین کی امیدوں پر پورا اترے گی۔

اتوار کی شام مظاہرین بغداد کے وسطی حصے میں واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے علاوی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتوں اور فرقہ وارانہ کوٹے سے دور رہتے ہوئے آزاد اور خود مختار افراد کی حکومت تشکیل دی جائے۔

مظاہرین نے سابق وزیر مواصلات محمد علاوی کی نامزدگی کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے خیال میں علاوی اُس حکمراں اشرافیہ کے قریب ہیں جن کے خلاف عوام مظاہرے کر رہے ہیں اور اس اشرافیہ کے رخصت ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یکم اکتوبر سے جاری غیر معمولی نوعیت کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تقریبا 550 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

علاوی نے رواں ماہ مظاہرین کے درجنوں نمائندوں سے ملاقات کے دوران اپنی حکومتی تشکیل میں عراقی کارکنان کو دو وزارتوں کی پیش کش کی تھی۔ ساتھ ہی یہ باور کرایا تھا کہ وہ آئندہ کابینہ میں پانچ وزارتوں کے حوالے سے مظاہرین کی رائے معلوم کریں گے۔ تاہم ان باتوں سے مظاہرین کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔

دوسری جانب عراق میں منصوبہ بندی کی وزارت نے ملک میں غربت کی سطح کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

مذکورہ اعداد و شمار کے نتائج سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مظاہروں کے لیے سڑکوں پر آنے والے عراق کے جنوبی صوبوں کے نوجوان سب سے زیادہ غربت سے دوچار ہیں۔ غربت کی بلند ترین شرح ملک کے چار جنوبی اور مشرقی صوبوں میں پائی گئی ہے۔ یہ صوبے المثنی، الدیوانیہ، میسان اور ذی قار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک کا جنوبی صوبہ المثنی سب سے زیادہ غربت کے حامل صوبوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں غربت کا تناسب 52% ہے۔ الدیوانیہ صوبہ 48% کے ساتھ دوسرے نمبر پر، میسان صوبہ 45% کے ساتھ تیسرے نمبر پر اور ذی قار صوبہ 44% کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ نینوی صوبہ جو ابھی تک داعش (2014 - 2017) کے خلاف جنگ کے اثرات سے باہر نہیں آ سکا ، 37.7% غربت کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

یاد رہے کہ عراق میں گذشتہ برس یکم اکتوبر سے بھرپور مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ مظاہرین ملک میں سیاسی تبدیلی، سیاسی جماعتوں کے کوٹے اور بدعنوانی کے خاتمے اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے اجرا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔