.

ایردوآن کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو اِفشا۔۔۔ مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے دفتر کے ایک سینئر ذمے دار کی اِفشا ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ذمے دار نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر میں انارکی پر شرط باندھی تھی۔

مذکورہ آڈیو ریکارڈنگ Nordic Monitor ویب سائٹ نے جاری کی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق ایردوآن کے دفتر کے سربراہ حسن دوآن نے یہ شرط باندھی تھی کہ محمد مرسی کی معزولی کے تین سے پانچ سال بعد الاخوان المسلمین تنظیم کی بڑے پیمانے پر واپسی ہو گی۔ مرسی کو عوامی احتجاج کے نتیجے میں 3 جولائی 2013 کو صدرات کے منصب سے معزول کر دیا گیا تھا۔

اِفشا ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کی آڈیو میں حسن دوآن نے کہا کہ "ان شاء الله، میں توقع کرتا ہوں کہ اس (مرسی کی حکومت کے سقوط) کا نتیجہ مصر میں تین سے پانچ برسوں کے دوران ایک زور دار دھماکے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ بڑی اور ڈائنامک تبدیلی واقع ہو گی"۔

یہ ٹیلی فونک گفتگو حسن دوآن اور اسامہ قطب کے درمیان صدر مرسی کی معزولی کے ایک روز بعد 4 جولائی 2013 کو ہوئی تھی۔ اسامہ قطب الاخوان کے سرکردہ رہ نما سید قطب کا بھتیجا ہے۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی سے متعلق امور کی نگرانی کرنے اور ان پر روشنی ڈالنے کا دعوی کرنے والی ویب سائٹ Nordic Monitor کے مطابق حسن دوآن نے مرسی کو ہونے والے تلخ تجربے کا موازنہ انیس سو نوے کی دہائی کے اواخر میں ترک اسلام پسند سیاست دانوں کے سقوط کے واقعے کے ساتھ کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ مصر میں الاخوان المسلمین تنظیم اسی قوت سے واپس لوٹے گی جو طرح ترکی میں ایردوآن کی واپسی پر اسلام پسندوں کے درمیان نظر آئی تھی۔ دوآن کا اشارہ 1997 میں وزیراعظم نجم الدین اربکان کے اقتدار سے رخصت ہونے کی جانب تھا۔ اربکان فوج کے دباؤ کے تحت وزارت عظمی کے منصب سے مستعفی ہو گئے تھے۔

ایردوآن کی مقرب شخصیت حسن دوآن کے مطابق اُس وقت ترکی کی حکومت سے اسلام پسندوں کی بے دخلی، روپ بدلی ہوئی ایک نعمت تھی اس لیے کہ اُس وقت یہ لوگ ملک کے انتظامی امور چلانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

دوآن نے اس جانب توجہ دلائی کہ مرسی اور الاخوان المسلمین مصر میں عدلیہ، فو اور دیگر حکومتی اداروں پر کنٹرول سے محروم تھے۔ دوآن نے قطب سے کہا کہ "غریب کا کوئی نہیں ہوتا نہ فوج نہ پولیس نہ بلدیہ نہ عدلیہ کوئی بھی نہیں ہوتا"۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں مرسی کی وفات سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے سابق مصری صدر کی رہائی اور ان کے حامیوں کے خلاف سزائے موت کے فیصلوں کی منسوخی کا مطالبہ کیا تھا۔

سال 2013 میں محمد مرسی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے مصر اور ترکی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔