.

ایران کا متنازع جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کی اجازت دینے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ تہران اور عالمی توانائی ایجنسی "آئی اے ای اے" کے درمیان اتفاق رائے سے ایران کی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی توانائی ایجنسی اور ایران کے درمیان اتفاق رائے ہوجاتا ہے تو ایران عالمی معائنہ کاروں کو متنازع تنصیبات کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹویٹر پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ آئی اے ای اے کے درمیان کسی مناسب اور معقول حل تک پہنچنا ممکن ہے جس کے بعد عالمی توانائی ایجنسی کو ایران کی دو جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت مل سکتی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز جوہری توانائی ایجنسی کی ورچوئل کانفرنس میں فرانس، بربطانیہ اور جرمنی نے شرکت کی۔

قبل ازیں سلامتی کونسل میں آئی اے ای اے کے مندوبین نے ایک مسودہ قرارداد پیش کیا تھا جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ معائنہ کاروں کو متنازع قرار دی گئی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت فراہم کرے۔

گذشتہ ہفتے عالمی توانائی ایجنسی کی ایران کی طرف سے دو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بدھ کے روز امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ایران کا عالمی معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار ناقابل قبول ہے۔ ایران کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔