ترکی نے مزید 129 اجرتی جنگجو لیبی حکومت کی مدد کے لیے طرابلس پہنچا دیے
لیبیا میں فوجی مداخلت بند کرنے کے عالمی مطالبات کے باوجود ترکی کی جانب سے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے جنگجوئوں اور اسلحہ کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔
لیبیا میں مصراتہ شہرمیں قائم بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ترکی سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے 129 اجرتی قاتل مصراتہ پہنچ گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف مصری ڈر عبدالفتاح السیسی نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں ترکی کی مسلسل بڑھتی مداخلت کے نتیجے میں لیبیا کا بحران مزید گھمبیر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرانہوں نے لیبیا میں فوج اتاری تو اسے عالمی سطح پر حمایت حاصل ہوگی۔
شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ لیبیا میں شامی جنگجوئوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ لڑائی میں شامی جنگجوئوں کی ہلاکتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
آبزر ویٹری نےبتایا کہ حالیہ ایام میں ترکی نے شام سے 417 جنگجوئوں کو لیبیا منتقل کیا ہے۔ ان میں 30 نابالغ بچے شامل ہیں۔
سیرین آبزر ویٹری کے مطابق شام سے جنگجوئوں کے نئے گروپ لیبیا بھیجےگئے ہیں جب کہ طرابلس کی قومی وفاق حکومت کی مدد کو آنے والے 2600 جنگجو واپس شام آگئے ہیں۔