.

ایران : مختلف شہروں میں بھرپور احتجاج ، سیکورٹی فورسز کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صوبے خوزستان میں سیکڑوں مظاہرین کے سڑکوں پر نکل آنے اور حالات خراب ہونے کے بعد حکام نے صوبے میں انٹرنیٹ کی فراہمی منقطع کر دی۔ عینی شاہدین نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ احتجاج کرنے والوں نے ایران کے سینئر ذمے داران کے خلاف نعرے لگائے۔ اس کے بعد ایرانی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کر دی۔ مظاہرین ایرانی نظام کے رخصت ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے مشہد شہر میں متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاریاں جمعے کے روز بڑے پیمانے پر مظاہروں کی دعوت دیے جانے کے بعد عمل میں آئی ہیں۔

ایران کے جنوب مغرب میں واقع شہر بہبہان میں جمعرات کی شب بھرپور مظاہرے ہوئے۔ اس دوران مظاہرین نے ایرانی نظام سے سبک دوش ہونے کا مطالبہ کیا۔ سیکورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے ان کی جانب فائرنگ کر دی۔ تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔

ایران میں انسانی حقوق کی ایجنسی "ہرانا" کے مطابق ان مظاہروں کا آغاز ملک میں اقتصادی اور معاشی حالات کی ابتری اور گرفتار شدہ مظاہرین کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ جاری ہونے پر احتجاج کے سلسلے میں ہوا۔

سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور وڈیو کلپوں میں بڑے شہروں میں سیکورٹی فورسز کی بھرپور تعیناتی نظر آئی۔ ان شہروں میں دارالحکومت تہران کے علاوہ شیراز اور اصفہان شامل ہیں۔

وائرل وڈیوز میں مظاہرین کو یہ نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا "نہ غزہ اور نہ لبنان ، ایران میری جان قربان"، "اگر تم لوگوں نے ہم پر توپوں اور ٹینکوں سے حملہ کیا تو اس نظام کو جانا ہو گا"، "مُلّائی حکمراں نظام نہیں چاہیے" اور "ایرانی مر سکتا ہے مگر ذلت برداشت نہیں کر سکتا"۔

سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔

دوسری جانب توقع ہے کہ ہزاروں منحرف ایرانی اور موجودہ نظام کی تبدیلی کے حامی افراد رواں ہفتے امریکا میں ایک ورچوئل اجلاس میں شریک ہوں گے۔ آزاد ایران کے نام سے منعقد ہونے والا یہ سالانہ عالمی اجلاس رواں برس کرونا وائرس کے سبب انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہا ہے۔ اجلاس میں اپوزیشن کی شخصیات، قانون ساز ارکان اور مختلف نمایاں شخصیات شریک ہوں گی۔ ان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی گولیینی ، سابق سینیٹر جو لیبرمین، سابق امریکی وزیر انصاف مائیکل موکیزی اور وزارت خارجہ کے ایک سابق سکریٹری روبرٹ جوزف شامل ہیں۔

قومی کونسل برائے ایرانی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے منتظمین کے مطابق اس ایونٹ میں 102 ممالک اور 30 ہزار ویب سائٹس سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوں گے۔

اجلاس میں عالمی برادری پر زور دیا جائے گا کہ وہ ایران میں حکمراں نظام کی تبدیلی کے لیے حرکت میں آئے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے جلا وطن رکن علی صفوی نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ "جب بھی ایران میں حکمراں نظام کی تبدیلی کی بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زمینی طور پر فوجیوں کا بھیجا جانا سوچا جائے بلکہ اس کا مقصد ایرانی عوام اور اپوزیشن کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اس تبدیلی کو ممکن بنا سکیں"۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے کرسی صدارت سنبھالنے کے بعد سے ان کی انتظامیہ نے ایرانی نظام پر شدید دباؤ ڈال رکھا ہے۔ مئی 2018 میں امریکا ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو گیا ، یہ معاہدہ 2015 میں طے پایا تھا۔ امریکا نے تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ اقدام ایران پر "انتہائی دباؤ" ڈالنے کی مہم کا حصہ ہے۔ اب واشنگٹن اقوام متحدہ پر زور دے رہا ہے کہ ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع کر دی جائے۔ یہ پابندی رواں سال اکتوبر میں اختتام پذیر ہو رہی ہے۔