یمن : صافر آئل ٹینکر کی مرمت کے حوالے سے ایک بار پھر حوثی ملیشیا کی ٹال مٹول
یمن میں حوثی ملیشیا سمندری آئل ٹینکر "صافر" کی مرمت کے لیے اقوام متحدہ کے تکنیکی مشن کو داخلے کی اجازت دینے کے بعد ایک بار پھر ٹال مٹول کا مظاہرہ کر ہی ہے۔ حوثی ملیشیا اس کارڈ کو عالمی برادری پر دباؤ اور اسے بلیک میل کرنے کے واسطے استعمال کر رہی ہے۔ اس لیے کہ جہاز سے تیل کے رساؤ کی صورت میں دنیا میں سب سے بڑی ماحولیاتی آفت جنم لے سکتی ہے۔
حوثی ملیشیا کے ایک اہم رہ نما اور باغیوں کی نام نہاد سپریم انقلابی کونسل کے سربراہ محمد علی الحوثی نے اب اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صافر ٹینکر کا مسئلہ غیر جانب دار تیسرے فریق کے ذریعے حل کیا جائے۔
منگل کی شام اپنی ٹویٹ میں الحوثی نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی پر "پہلوتہی" کا الزام عائد کیا۔ اس نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک تیسرے بین الاقوامی فریق کو شامل کیا جائے جو "دشمن" کے ساتھ شریک نہ ہو۔
اس سے قبل عالمی سلامتی کونسل نے تصدیق کی تھی کہ حوثیوں نے سمندر میں موجود تیل کے ٹینکر "صافر" کے لیے اقوام متحدہ کی تکنیکی ماہرین کی ٹیم کو داخلے کی اجازت دے دی ہے۔
گذشتہ جمعرات کو ہونے والے خصوصی اجلاس کے بعد سلامتی کونسل کے ارکان نے صافر آئل ٹینکر میں شگاف یا دھماکے کی صورت میں جنم لینے والی ماحولیاتی آفت کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ارکان نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا تھا کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے اقوام متحدہ کی تکنیکی ٹیم کو جہاز کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے حوثی ملیشیا پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ حوثی ملیشیا دو سالوں سے "صافر" آئل ٹینکر کی مرمت میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ اگر اس کی فوری طور پر مرمت نہ کی گئی تو ماحولیاتی، معاشی اور اقتصادی طور پر خطر ناک نتائج سامنے آئیں گے۔