.

یمن : جنوبی علاقوں کی عبوری کونسل خود مختار نظام سے دست بردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی علاقوں کا نظم ونسق چلانے والی علاحدگی پسند عبوری کونسل کے سرکاری ترجمان انجینئر نزار ہیثم نے باور کرایا ہے کہ کونسل ریاض معاہدے پر عمل درامد کے لیے عرب اتحاد کی کوششوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ ترجمان نے اس سلسلے میں واضح کیا کہ عبوری کونسل اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں خود مختار نظام سے دست بردار ہونے کا اعلان کرتی ہے۔

بدھ کی صبح جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "عبوری کونسل خود مختار نظام سے متعلق اپنے سابق اعلان سے دست بردار ہو رہی ہے۔ اس کا مقصد ریاض معاہدے پر عمل درامد کے لیے یمن میں سرگرم عرب اتحاد کی کوششوں کو سپورٹ کرنا ہے۔ اس طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی مداخلت کا مثبت جواب دیا جا سکے گا۔ یمن میں امن و استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہو گی اور حوثی ملیشیا اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو یکجا کیا جا سکے گا۔ جنوبی صوبوں میں ترقیاتی پیش رفت ہو سکے گی"۔

نزار ہیثم نے باور کرایا کہ "عرب اتحاد کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کا سلسلہ جاری رہے گا اور اسے سیاسی، عسکری، اقتصادی اور سیکورٹی لحاظ سے مزید گہرا بنایا جائے گا۔ خطے میں ایرانی مداخلت اور دہشت گرد جماعتوں کے خلاف لڑنے کے حوالے سے ہمارے اہداف مشترکہ ہیں۔ شدت پسندی پر مبنی سرگرمیوں کا انسداد ، سمندری جہاز رانی کے علاوہ خلیج عدن اور آبنائے باب المندب کو محفوظ بنانا اور تنظیموں اور افراد کے ذریعے انارکی کے پھیلاؤ کو روکنا لازم ہے"۔

سعودی عرب نے یمنی حکومت اور جنوب کا نظم ونسق چلانے والی علاحدگی پسند عبوری کونسل کے سامنے ایک قرارداد پیش کی ہے جس کا مقصد جنگ زدہ ملک کو درپیش ہمہ جہت بحرانوں کے حل کی خاطر فائر بندی سمیت ریاض میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنا بتایا گیا ہے۔ اس امر کا اظہار ایک سرکاری عہدیدار نے منگل کے روز کیا۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر پیش کی جانے والی سعودی قرارداد میں شرط عاید کی گئی ہے کہ جنوب کی عبوری کونسل اپنے زیر نگین علاقوں میں رائج خود اختیاری کا نظام ختم کر کے عدن میں گورنر مقرر کرے، نئی حکومت تشکیل دی جائے جس میں یمن کے شمالی اور جنوبی علاقوں کی برابر نمائندگی ہو۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یمنی وزیر اعظم تیس دنوں کے اندر حکومت تشکیل دیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں یمنی جماعتوں نے قرارداد کے مسودے سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد کا عندیہ ظاہر کیا ہے تاکہ بحران کے خاتمے کی راہ میں حالیہ رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور ’’ریاض معاہدے‘‘ پر عمل درآمد میں تیزی لائی جا سکے۔

امسال اپریل سے یمن کی مختلف جماعتوں کے درمیان باہمی تناؤ کی صورت حال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے بالخصوص جب سے جنوبی یمن کی عبوری کونسل نے اپنے زیر نگین علاقے میں خود اختیاری کا نظام رائج کیا ہے، اس کے بعد سے صورتحال زیادہ خراب ہوئی ہے۔ جنوبی یمن میں عبوری کونسل کی خود مختار حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کردہ صدر عبد ربہ ہادی منصور کی یمنی حکومت ناپسند کرتی ہے۔

دونوں فریقوں نے تاہم نے سعودی عرب کی جانب سے فائر بندی کی اپیل پر کان دھرے جس کے نتیجے میں 22 جون تک کشیدگی میں کمی دیکھنے میں آئی۔ دونوں فریقین نے ریاض معاہدے پر عمل درآمد کا طریقہ کار طے کرنے کی خاطر مذاکرات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

گذشتہ نومبر میں سعودی عرب کے صدر مقام الریاض پر طے پانے والے معاہدے کا مقصد جنوبی یمن میں اقتدار کی رسہ کشی کا خاتمہ ہے۔ معاہدے کے مطابق جنوب کی عبوری کونسل اور دیگر علاقے نئی تشکیل پانے والی قومی کابینہ میں شامل ہوں گے اور تمام فورسز کو عالمی طور پر تسلیم کردہ حکومت کے کنڑول میں دیا جائے گا۔