شام: شمال مشرقی علاقے میں چیک پوائنٹ پر کار بم دھماکا، 6 افراد ہلاک ،15 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے شمال مشرق میں واقع سرحدی قصبے راس العین کے نزدیک ایک چیک پوائنٹ پر کار بم دھماکے کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اس کار بم حملے میں ترکی کی حمایت یافتہ شامی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور مہلوکین اور زخمیوں میں زیادہ تر شامی جنگجو ہی ہیں۔

اس نے بتایا ہے کہ جمعرات کو یہ بم دھماکا راس العین کے نزدیک واقع گاؤں تل حلف میں ایک چیک پوائنٹ پر ہوا ہے۔اس گاؤں پر ترک فورسز اور ان کے اتحادی شامی جنگجوؤں کا گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے کنٹرول ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔

ترک فورسز اور ان کی اتحادی شامی فورسز نے گذشتہ سال کرد ملیشیا سے شام کی سرحد کے ساتھ ساتھ واقع 120 کلومیٹر طویل پٹی چھین لی تھی۔یہ علاقہ راس العین سے تل ابیض تک پھیلا ہوا ہے۔تب سے اس علاقے میں متعدد بم دھماکے ہوچکے ہیں۔تین چار دھماکے تو گذشتہ ایک ہفتے میں ہوئے ہیں۔

گذشتہ منگل کے روز راس العین میں موٹر سائیکل کے ساتھ نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا تھا جس کے نتیجے میں دو شہری اور ایک جنگجو ہلاک ہوگیا تھا۔اس سے دو روز قبل قصبے کی سبزی منڈی میں بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ ترکی کی شام کے اس علاقے میں فوجی مداخلت سے قبل امریکا کی قیادت میں کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکیشن یونٹس ( وائی پی جی) اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز( ایس ڈی ایف) نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف خونریز لڑائی لڑی تھی اور اس کو شکست سے دوچار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ترک فوج اور ان کے اتحادیوں نے بعد میں ایس ڈی ایف کے زیر قبضہ یہ علاقے چھین لیے تھے۔

ترکی شامی کردملیشیا وائی پی جی کو اپنے ہاں کے کالعدم جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی توسیع قراردیتا ہے۔ پی کے کے نے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں 1984ء سے مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے جبکہ ترکی کے علاوہ امریکا نے اس کرد علاحدگی پسند تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں