.

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے لیے فضا سازگار نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ اس نے چار مسلح افراد پر مشتمل ایک مجموعے کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ یہ افراد شام کے ساتھ سرحد پر سیکورٹی باڑ پر دھماکا خیز آلات نصب کرنے میں مصروف تھے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکوس نے واضح کیا کہ گولان کے پہاڑی علاقے کے جنوب میں اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج کا کوئی اہل کار زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

حالیہ عرصے میں اسرائیل کی شام اور لبنان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے گذشتہ ماہ شام کے جنوب میں عسکری اہداف پر بم باری کی۔ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب "فائرنگ" کے واقعے کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیل کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک رکن کے علاوہ ایران کی ہمنوا دیگر ملیشیاؤں کے بعض ارکان بھی مارے گئے۔

گذشتہ چند روز کے دوران اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر دونوں اطراف سے ایسے بیانات جاری ہوئے جن میں ممکنہ جنگ سے خبردار کیا گیا۔ حزب اللہ کی جانب سے متنبہ کیا گیا کہ اسرائیل کے خلاف کارروائی "حتمی طور پر" آنے والی ہے جب کہ اسرائیل نے خبردار کیا کہ لبنانی ملیشیا "آگ سے کھیل رہی ہے"۔ تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک جنگ ایک ایسا اقدام ہے جس کی خواہش فریقین میں سے کوئی نہیں رکھتا۔

اسرائیل نے گذشتہ پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے لبنان اور اسرائیل کو علاحدہ کرنے والی "بلیو لائن" عبور کرنے والے ایک دہشت گرد گروپ کے ارکان کو موت کی نیند سلا دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دراندازی کی اس کارروائی کو ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے منسوب کیا جو جنوبی لبنان میں وسیع نفوذ کی حامل ہے۔ عبرانی ریاست حزب اللہ کو اپنا دشمن شمار کرتی ہے۔

حزب اللہ نے اس واقعے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کر دی تھی۔ لبنانی وزیر اعظم حسان دیاب نے اس واقعے کو "خطر ناک جارحیت" قرار دیا۔

یہ جارحیت شام میں اسرائیل سے منسوب نئے حملوں کے بعد سامنے آئی۔ مذکورہ حملوں میں ایران نواز ملیشیاؤں کے پانچ جنگجو مارے گئے جن میں حزب اللہ کا ایک رکن شامل تھا۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان آخری بڑا مقابلہ 2006 میں ہوا تھا۔ ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والے اس معرکے میں 1200 سے زیادہ لبنانی ہلاک ہوئے۔ ان میں اکثریت شہریوں کی تھی۔ جنگ میں 160 اسرائیلی مارے گئے جن میں اکثریت فوجی اہل کاروں کی تھی۔

سال 2006ء کی جنگ کے بعد لبنانی فوج کی سرحد پر تعیناتی کے وقت سے جنوبی لبنان جانے والے صحافیوں نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ کا عسکری وجود نظر نہیں آتا ہے۔ تاہم رواں سال مارچ میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں باور کرایا گیا تھا کہ حزب اللہ کے جنگجو اور ہتھیار اب بھی علاقے میں موجود ہیں۔

مبصرین یہ باور کرا رہے ہیں کہ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں کے کیمپ اس بات کا ادارک رکھتے ہیں کہ نئی جنگ ان دونوں کے فوری مفادات پورے نہیں کرے گی۔

حزب اللہ کے امور کے ماہر دیدیہ لورا کے مطابق عوامی غم و غصہ اور حکام کے خلاف مظاہرے جن میں حزب اللہ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں احتجاج شامل ہے ،،، یہ ایسے عوامل ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لورا نے مزید کہا کہ اقتصادی ، سیاسی اور طبی بحران کی موجودگی میں "اسرائیل کے خلاف جنگی ایجنڈے کے واسطے فضا سازگار نہیں"۔

محقق کے نزدیک حزب اللہ کو اپنے سپورٹر ایران کی طرح مالی دباؤ کا سامنا ہے ،،، یہ چیز عسکری حکمت عملی پر اثرا انداز ہو سکتی ہے۔