.

کرونا کے بیچ نجی طیاروں میں فضائی سفر کے نرخ کیا ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منسوخ پروازیں، طیارے آدھے خارلی اور ہوائی اڈے خاموش ... یہ وہ منظر نامہ تھا جو آخری چند ماہ کے دوران ہوا بازی کے عالمی سیکٹر میں سامنے آیا۔ یہ سیکٹر کرونا وائرس سے شدید متاثر ہوا بلکہ یہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا سیکٹر ہے۔ رواں سال ہوا بازی کے سیکٹر کو اس کی تاریخ کے سنگین ترین بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

ہوا بازی کے سیکٹر نے آخری چھ ماہ کے دوران 3.5 لاکھ ملازمتوں کو ختم کیا۔ توقع ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ملازمتوں سے ہاتھ دھونے والے افراد کی تعداد 5 لاکھ ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ ختم کی گئی ملازمتوں میں 80٪ کا اعلان یورپ اور شمالی امریکا میں ہوا۔

ہوا بازی کی عالمی ایسوسی ایشن IATA کے مطابق رواں سال جولائی میں عالمی سطح پر سفر کی طلب میں جولائی 2019ء کے مقابلے میں تقریبا 80% تک کمی آئی۔ رواں سال فضائی کمپنیوں کا مجموعی خسارہ 84 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ ایسوسی ایشن نے توقع ظاہر کی ہے کہ ہوا بازی کی سرگرمیاں کرونا کی وبا نمودار ہونے سے پہلے کی سطح پر 2024ء سے قبل واپس نہیں آ سکیں گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا نے انسانوں پر زندگی کا ایک نیا اسلوب لاگو کیا۔ تمام لوگ صرف ضرورت کے تحت سفر کرنے کا سوچنے لگے اور سماجی فاصلہ ہم سب کی بنیادی فکر بن گیا۔ اس کے نتیجے میں نجی فضائی پروازوں کی مانگ میں اضافہ ہو گا جو اس سے قبل محض دولت مند افراد کے لیے مخصوص شمار ہوتی تھیں۔

البتہ اب ان پروازوں کو مسافروں کا ایک نیا طبقہ استعمال میں لائے گا۔ یہ لوگ کمرشل فضائی پروازوں کے اندیشوں سے دور سفر کے قابل اعتماد اور محفوظ وسائل کی تلاش میں ہیں۔

کیا اس طبقے کا مسافر نجی طیارے کے لیے ایک گھنٹے کے 3 سے 15 ہزار ڈالر ادا کرے گا جب کہ اس میں ٹیکس اور ایندھن شامل نہیں ہے ...؟