.

مسلح‌ غنڈہ گردی کے واقعات سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: سعد الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل میں‌ ناکامی اور مسلح‌ غنڈہ گردی کے بڑھتے واقعات ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سعد حریری نے کہا کہ ملک میں مختلف سیکیورٹی نوعیت کے انکشافات کیے گئے ہیں۔ طاقت کے ذریعے کسی جماعت پر دستور کا نفاذ ممکن نہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ خانہ جنگی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ بیروت ، بعبلک، الھرمل اور دوسرے مقامات پر بعض عناصر کی طرف سے جس طرح اسلحے کی نمائش کی گئی ہے اس کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعد حریری نے کہا کہ فرانس کی طرف سے لبنان میں حکومت سازی اور سیاسی بحران کے حل کے لیے پیش کردہ تجاویز اب بھی موجود ہیں۔ فرانسیسی فارمولہ ختم نہیں‌ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کا امن فارمولہ ملک کو بحران سے نکالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے بعد لبنان میں فرانسیسی سیاسی فارمولے کے حوالے سے موقف سخت ہو گیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ حسان دیاب کی حکومت بیروت دھماکوں‌ کے نتیجے میں ختم ہوئی جب کہ مصطفیٰ ادیب کو بعض متنازع نام کابینہ میں شامل نہ کرنے پرسبکدوش ہونا پڑا۔