ترکی کی اسپیشل فوج کا ایک دستہ متنازع علاقے ناگورنا کاراباخ میں داخل
آرمینیائی نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز روسی وار گونزو اسٹیشن کے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ترک اسپیشل فورسز کا ایک یونٹ متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ خطے میں واقع ھادروت نامی قصبے میں داخل ہوا تھا تاہم آرمینیا کی فوج نے اسے پسپا کر دیا تھا۔
آرمینیا کی پریس کے مطابق اس رپورٹر نےبتایا ترک اسپیشل فورسز نے کالی رنگ کی وردی پہن رکھی تھی اور ان کا ہدف ھادروت کے مقام پر آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف کے دعوے کی روشنی میں وہاں پر آذر بائیجان کا پرچم لہرانا تھا۔
آذربائیجان نے اعلان کیا کہ وہ فرانس کو غیر جانبدار فریق سمجھتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ آرمینیا کے ساتھ جاری تنازع میں مذاکرات کے لیے ترکی کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ صدر علیوف نے کہا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کی مدت قیدیوں کےتبادلے کےاختتام کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی۔
خیال رہے کہ ہفتے کے روز آذربائیجان کے وزیر خارجہ سیہون بیراموف نے کہا تھا کہ ناگورنو قرباخ خطے کے تنازع میں جنگ بندی صرف اس عرصے کے دوران رہے گی جب ریڈ کراس کو لاشوں کے تبادلے کا بندوبست کرنا ہے۔
آذربائیجان اور آرمینیا نے ماسکو میں بات چیت کے دوران انسانی مقاصد کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
-
آذربائیجان: کاراباخ کی لڑائی میں 28 ترک نواز شامی جنگجو ہلاک
آذربائیجان اور آرمینیا کی فوجوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 28 ترک ...
بين الاقوامى -
آرمینیا کا ناگورنو کاراباخ کی خود مختاری سرکاری طور پر تسلیم کرنے پر غور
آرمینیا کا کہنا ہے کہ وہ روس کے زیر نگرانی آذربائیجان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ...
بين الاقوامى -
روس کی کوششوں سے طویل بات چیت کے بعد آذر بائیجان اور آرمینیا جنگ بندی پر متفق
روس کی کوششوں سے مسلسل 10 گھںٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں آرمینیا اور آذر ...
مشرق وسطی