.

امریکا نے مشرق وسطی میں "B-52" بمبار طیارے تعینات کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے ایک اعلان کے مطابق اس نے گذشتہ روز ہفتے کو مشرق وسطی میں"B-52" بم بار طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ کمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دشمن پر روک لگانا اور علاقے میں امریکا کے شراکت داروں اور حلیفوں کو مطمئن کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اس مشن سے طیاروں کے عملے کو خطے کی فضائی حدود اور کنٹرولنگ فنکشنز کے بارے میں جان کاری حاصل ہو گی۔

یہ اقدام ان میڈیا رپورٹوں کے گردش میں آنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی سے متعلق اپنے سینئر معاونین کے ساتھ اجلاس میں ایران پر حملے کے آپشنز طلب کیے تھے۔ امریکی چینل "فوكس نيوز" نے اسے موجودہ انتظامیہ کی جانب سے تہران کے لیے دھمکی کا پیغام قرار دیا تھا۔

امریکی ذمے داران نے گذشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ ٹرمپ نے جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنے سینئر مشیروں کے ایک خفیہ اجلاس میں سوال کیا تھا کہ آیا ان کے پاس آئندہ ہفتوں کے دوران ایران میں مرکزی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے کے راستے موجود ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے مشیروں نے فوجی حملے کے خیال پر عمل درامد کی حوصلہ شکنی کی۔ البتہ امریکی صدر کے بعض سینئر مشیروں نے فوجی حملے کے موقف پر آگے بڑھنے پر زور دیا۔ ان میں نائب صدر مائیک پینس، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر سی میلر شامل ہیں۔

ادھر امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک اے میلی نے خبردار کیا کہ ایرانی تنصیبات کے خلاف فوجی کارروائی سے ٹرمپ کی مدت صدارت کے آخری ہفتوں کے دوران بآسانی ایک تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔