.

فخری زادہ کی ہلاکت: ایرانی پاسداران انقلاب اور وزارت انٹیلی جنس کے درمیان سنگین بحران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اخباری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے بعد از اثرات کے دائرہ کار میں ایرانی انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب کے بیچ بحران سنگین ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے اپوزیشن کی ویب سائٹ Iranwire نے بتایا ہے کہ ایرانی وزارت انٹیلی جنس اس وقت پاسداران انقلاب کے عناصر کو طلب کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد کارروائی کے حالات و واقعات کے حوالے سے تحقیقات شروع کرنا ہے۔

رپورٹ میں دو ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اپنے عناصر کے طلب کیے جانے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے نزدیک پاسداران انقلاب فخری زادہ کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہے ،،، بلکہ حالیہ برسوں کے دوران پاسداران انقلاب نے ایران کے لیے کئی سیکورٹی مسائل کھڑے کر دیے۔ اس کی وجہ پاسداران کا انٹیلی جنس کے کام سے ناواقف ہونا اور خود کو بدعنوانی کے سمندر میں غرق کر دینا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے عناصر کے خلاف ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے اقدامات سے ان دونوں سیکورٹی اداروں کے درمیان براہ راست تصادم میں شدت آ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فخری زادہ کی ہلاکت کے حوالے سے پاسداران انقلاب کی روایت غیر واقعی ہے۔

یاد رہے کہ تہران کے وسط میں ایرانی سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کی تفصیلات کے حوالے سے سیکورٹی اداروں کی روایتوں میں اختلاف سامنے آیا ہے۔

مسلح افراد کے گھات لگانے سے لے کر دہشت گرد عناصر، تعاقب کی روایت، کارروائی میں استعمال ہونے والی گاڑی کے مالک کے سفر کرنے اور سیٹلائٹ کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے آتشی ہتھیار کو چلانے تک ایران کی سرکاری روایات میں مختلف نوعیت کے تضادات موجود ہیں۔