.

حوثیوں نے انفرا ریڈ سے کام کرنے والی بارودی سرنگیں بچھائی ہیں : یمنی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے لیے قومی پروگرام کے ڈائریکٹر بریگیڈیر جنرل امین العقیلی کا کہنا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کے عمل میں خطرناک نوعیت کی پیش رفت ہوئی ہے۔

العقیلی نے ہفتے کے روز جاری بیان میں واضح کیا کہ الجوف صوبے کے ضلع خب الشعف میں دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حوثی ملیشیا ایسی بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز آلات نصب کر رہے ہیں جو انفرا ریڈ سے کام کرتے ہیں۔ کسی بھی جسم کے اس مواد کے عدسے کے سامنے سے گزر جانے پر ہی یہ پھٹ جاتے ہیں ، خواہ وہ کوئی بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ العقیلی کے مطابق انجینئرنگ ٹیم ان بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز آلات میں سے کئی کو ناکارہ بنا چکی ہے۔

پروگرام کے ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ زمین کو ان بارودی سرنگوں سے آلودہ کرنا ایک انسانی آفت ہے جو کئی برس تک جاری رہ سکتی ہے۔ ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے بارودی مواد کی بھاری مقدار مختلف صورتوں میں نصب کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز آلات کے سبب بے قصور شہریوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی ہے۔

العقیلی نے مقامی آبادی اور راستہ گزرنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ آلودہ علاقوں سے دور رہیں اور ویران راستوں سے گزرنے سے گریز کریں۔ اس کے بجائے ایسے راستوں کو اپنایا جائے جہاں گاڑیوں اور ٹرکوں کے گزرنے کے آثار واضح ہوں۔

رپورٹوں کے مطابق حوثیوں نے یمن کے 15 سے زیادہ صوبوں میں بیس لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ ان میں ہر طرح کی سرنگیں شامل ہیں۔ پہاڑیوں ، وادیوں ، چٹیل میدانوں اور رہائشی علاقوں میں باردی سرنگیں حوثی ملیشیا کا ایک نمایاں ترین ہتھیار ہے۔ حوثی ملیشیا کسی بھی علاقے سے انخلا سے قبل وہاں سیکڑوں بارودی سرنگیں بچھا دیتی ہے۔ اس کے سبب ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں۔