حوثیوں نے انفرا ریڈ سے کام کرنے والی بارودی سرنگیں بچھائی ہیں : یمنی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے لیے قومی پروگرام کے ڈائریکٹر بریگیڈیر جنرل امین العقیلی کا کہنا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کے عمل میں خطرناک نوعیت کی پیش رفت ہوئی ہے۔

العقیلی نے ہفتے کے روز جاری بیان میں واضح کیا کہ الجوف صوبے کے ضلع خب الشعف میں دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حوثی ملیشیا ایسی بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز آلات نصب کر رہے ہیں جو انفرا ریڈ سے کام کرتے ہیں۔ کسی بھی جسم کے اس مواد کے عدسے کے سامنے سے گزر جانے پر ہی یہ پھٹ جاتے ہیں ، خواہ وہ کوئی بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ العقیلی کے مطابق انجینئرنگ ٹیم ان بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز آلات میں سے کئی کو ناکارہ بنا چکی ہے۔

پروگرام کے ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ زمین کو ان بارودی سرنگوں سے آلودہ کرنا ایک انسانی آفت ہے جو کئی برس تک جاری رہ سکتی ہے۔ ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے بارودی مواد کی بھاری مقدار مختلف صورتوں میں نصب کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز آلات کے سبب بے قصور شہریوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی ہے۔

العقیلی نے مقامی آبادی اور راستہ گزرنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ آلودہ علاقوں سے دور رہیں اور ویران راستوں سے گزرنے سے گریز کریں۔ اس کے بجائے ایسے راستوں کو اپنایا جائے جہاں گاڑیوں اور ٹرکوں کے گزرنے کے آثار واضح ہوں۔

رپورٹوں کے مطابق حوثیوں نے یمن کے 15 سے زیادہ صوبوں میں بیس لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ ان میں ہر طرح کی سرنگیں شامل ہیں۔ پہاڑیوں ، وادیوں ، چٹیل میدانوں اور رہائشی علاقوں میں باردی سرنگیں حوثی ملیشیا کا ایک نمایاں ترین ہتھیار ہے۔ حوثی ملیشیا کسی بھی علاقے سے انخلا سے قبل وہاں سیکڑوں بارودی سرنگیں بچھا دیتی ہے۔ اس کے سبب ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں