.

بارش کے بعد سعودی شہر 'تمیر' کا جمالیاتی حسن سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ سعودی عرب کے علاقے 'تمیر' میں‌موسلا دھار بارش کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ موسم مزید خوش گوار ہوگیا بلکہ بارش نے شہر کے جمالیاتی حسن میں مزید اضافہ کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق ایک مقامی فوٹو گرافر فہد آل برغش نے بتایا کہ تمیر کا علاقہ دارالحکومت الریاض کے شمال مغرب میں 140 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ ایک پرفضا مقام ہے۔ بارش نے شہر کے جمالیاتی حسن کو چار چاند لگا دیے۔

برغش نے شہر کے خوبصورت مناظر اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیے ہیں۔ یہ مناظر اپنی خوبصورت میں فن پاروں سے کم نہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فوٹو گرافر برغش نے کہا کہ اس نے بارش کے دوران شمالی تمیر کے الاعصل گھاٹی جو کہ ایک وسیع وادی کی مانند کی سیر کی۔ اس کا آغاز قرشع الشحمہ کے مقام سے ہوتا ہے اور 40 کلومیٹر طویل مسافت کے بعد نفوذ دلاھنا کےمقام پر اس وادی کا اختتام ہوتا ہے۔ اس کی چوڑائی ایک کلو میٹر ہے جب کہ بعض مقامات انتہائی تنگ ہیں اور دونوں طرف کے پہاڑوں کےدرمیان محض چند میٹر کا فاصلہ بچ جاتا ہے۔

اس گھاٹی سے گذرتے ہوئے سعودی فوٹو گرافر نے اس مختلف مناظر کی تصاویر لیں جو بلا شبہ دیکھنے والوں کی نظروں کو خیرہ کر دینے والی ہیں۔

خیال رہے کہ انتظامی طور پر تمیر المجمعہ گورنری میں واقع ہے جو الریاض کے علاقے میں واقع ہے۔ اسے تمیر کانام خود رو کھجوروں کی وجہ سے دیاگیا۔ یہاں پر بڑی تعداد میں کھجوروں کے ایسے درخت موجود ہیں جو کسی کی محنت کے بغیر خود پیدا ہوئے اور پھل بھی دیتے ہیں۔

یہ مقام سطح سمندر سے بلند ہونے کی وجہ سے پرفضا سمجھا جاتا ہے مگر اس کی مٹی زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہے اور یہاں مختلف اقسام کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ 'تمیر' شہرکو اس کی قدرتی خوبصورتی کی بدولت موسم بہار کا 'دلہا' بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کئی ایک تفریحی مقامات ہیں جو سیرو سیاحت کے لیے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔