.

افغان خاتون پر کو تھپڑ مارنے والا ایرانی پولیس افسر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایرانی پولیس افسر کے ہاتھوں تہران میں ایک افغان خاتون پناہ گزین کو تھپڑ مارنے کے واقعے کے افغان حکومت نے ایران سے سخت احتجاج کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ‌ کے مطابق افغان نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دو عہدیداروں نے تہران میں ایک مہاجر کیمپ میں ایرانی پولیس افسر کے ہاتھوں افغان خاتون کو تھپڑ مارنے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔
ایران میں افغان سفارت خانے نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس طرز عمل کو "غلط اور توہین آمیز" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عہدیداروں نے "سنجیدہ اور قانونی تحقیقات" کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
سفارتخانے نے زور دے کر کہا کہ ایران میں مقیم افغان مہاجرین کے متعدد نمائندوں نے اس معاملے میں شکایت درج کرائی ہے اور وہ اس معاملے کی پیروی کر رہے ہیں۔
ادھر ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ "ینگ جرنلسٹس کلب" ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تہران کے فوجی پراسیکیوٹر نے خاتون کو تھپڑ مارنے والے افسر کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں۔
افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے سیاسی مشیر عبد الکبیر واثق نے جمعرات کو لکھا کہ یہ ایک افسر پر ہاتھ اٹھانے والے افسر اور حکومت کے لیے شرم کی بات ہے۔
ایک ٹویٹ میں افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک مشیر جاوید فیصل نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی ہے جیسا کہ آپ نے ایک انٹرویو میں دعوی کیا ہے؟۔