.

اپیل عدالت سے اغوا کیس میں مجرم قرار دی گئی خاتون کا سرقلم کرنے کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مشرقی گورنری میں قائم ایک اپیل عدالت نے دمام کی فوج داری عدالت کی طرف سے گذشتہ محرم میں جاری کردہ اغوا کیس کی مرکزی ملزمہ کو سزائے موت دینے کی توثیق کی ہے۔ میڈیا میں یہ کیس'دمام کی اغوا کار' کے نام سے مشہور ہے۔

خاتون پر دو بچوں اغوا کرنے کے ساتھ طویل عرصے تک انہیں اپنے گھر میں رکھنے اوران کے ساتھ غیرقانونی تعلقات قائم کرنے جیسے سنگین الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ اس کیس میں مرکزی ملزمہ کے ساتھ تین مرد ملزمان بھی شامل ہیں۔ انہیں قید اور جرمانوں‌کی سزائیں دی گئی ہیں۔

دمام کی فوج داری عدالت نے اغوا کیس میں ملزمان کو اقبال جرم کرنے پرانہیں سزائیں سنائیں۔ یہ کیس ایک سال قبل سامنے آیا تھا جس میں پتا چلا تھا کہ ایک خاتون نے 20 سال قبل دو بچوں کو اغوا کے بعد اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ خاتون اور دیگر ملزمان پر دھوکہ دہی، غیر شرعی تعلقات قائم کرنےاغوا اور دیگر الزامات کا اعتراف کیا تھا۔

اس کیس میں فوج داری عدالت کے فیصلے کو مشرقی گورنری کی اپیل کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اپیل عدالت نے مرکزی ملزمہ کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ملزم کو ڈیڑھ سال قید اور 20 ہزار ریال جرمانہ، تیسرے کو 25 سال قید اور چوتھے ملزم کو ایک سال قید اور پانچ ہزاری ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔