.

تُونس اور فلسطین کوکوویکس اسکیم کے تحت کووِڈ-19کی ویکسین مفت ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کوویکس اسکیم کے تحت تُونس اور فلسطینی علاقوں میں کووِڈ-19 کی ویکسین مفت مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحرمتوسط کے خطے کے لیے ڈائریکٹر رِک بریننان نے سوموار کے روز ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ’’فلسطینی علاقوں کو کووِڈ-19 کی فائزر اوربائیواین ٹیک کی ساختہ ویکسین کی 37 ہزار خوراکیں ملنے کی توقع ہے اور فلسطینیوں کو وسط فروری سے ویکسین مہیا کرنے کا آغاز ہوگا۔تُونس کو کوویکس اسکیم کے تحت 93600 خوراکیں مہیا کی جائیں گی۔‘‘

انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ ’’اس وقت دنیا کے دولت مند ممالک اور کم آمدنی والے ممالک میں ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے نمایاں فرق پایا جارہا ہے۔اس لیے جب تک دوا ساز ادارے اور امیر ممالک کوویکس کے لیے مکمل وسائل مہیا نہیں کرتے ہیں،اس خلیج کو پاٹا نہیں جاسکتا۔اس ضمن میں ہمیں مالی وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر غریب ممالک کو ویکسین مہیا نہیں کی جاتی ہے تو وہ کروناوائرس کی نئی شکل سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔یہ نیا وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد میں بآسانی منتقل ہوسکتا ہے اور اس کا علاج بھی مشکل ہے۔‘‘

ڈبلیو ایچ ا ونے اب تک فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی ہے۔اب اس کے ماہرین دوسری دواساز کمپنیوں کی تیار کردہ نسبتاً سستی ویکسینوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔انھیں منظوری کی صورت میں کوویکس پروگرام کے تحت دنیا کے غریب ملکوں کو مہیا کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحرمتوسط کے خطے میں افغانستان ، پاکستان ، صومالیہ ، جیبوتی اور مشرق اوسط میں واقع ممالک شامل ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے ایک فرد کے لیے ویکسین کی دوخوراکیں تجویز کی ہیں۔کسی ایک فرد کو پہلی خوراک کے قریباً چار ہفتے کے بعد دوسری خوراک لگائی جارہی ہے۔

یہ توقع کی جارہی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں اپریل کے اوائل تک ویکسین لگانے کا آغاز ہوجائے گا اور سال کے وسط تک شدید خطرے سے دوچار آبادی کو ویکسین کے انجیکشن لگا دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ کوویکس کے نام سے فورم عالمی اتحاد برائے ویکسین اور امیونائزیشن (گاوی)،اتحاد برائے وبا تیاری اور عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ سال قائم کیا تھا۔ کوویکس اسکیم کا مقصد دنیا کے غریب ممالک میں کووِڈ-19 کی مہنگی ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا تھا۔ڈبلیو ایچ او نے اس اسکیم کے تحت پاکستان سمیت مختلف ممالک کی بیس فی صد آبادی کے لیے کووِڈ-19 کی ویکسین مفت مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔