.

ایران کے ساتھ معاہدے پراعتبار نہیں، تہران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہاہے کہ ان کا ملک ایران کی جارح اور انتہا پسند رجیم کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیں‌گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے پر کوئی اعتبار نہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھوکی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف یورپی ممالک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے اور امریکا کو اس میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

منگل کو ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں ایران کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے پر کوئی اعتبار نہیں۔ ایرانی رجیم ایک انتہا پسند اور جنونی ہے۔ اسرائیل ایران کی جارح اور انتہا پسند کلاس کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے ہرقیمت پر روکے گا چاہے۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ہم ممکنہ اقدام کریں گے اور اہمیں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ آیا ایران نے کوئی معاہدہ کیا ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے یہ تشویش اور دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہےجب دوسری طرف امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے لچک دکھاتے ہوئے یورپی ممالک کے ساتھ معاہدے میں واپسی کے لیے بات چیت کی کوششیں شروع کی ہیں۔ امریکا نے ایران کو بتا دیا ہےکہ وہ پابندیاں اٹھانے سے قبل جوہری معاہدے کی شرائط اور اس کے پروٹوکول کی پابندی کرے تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیاں اٹھائے جانے تک معاہدے کی تمام شرائط پرعمل نہیں کرے گا۔

ادھر ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے 23 فروری کو ایران پرعاید کردہ پابندیاں اٹھانے کی مہلت دی تھی مگر پابندیاں نہیں اٹھائی جاسکیں جس کے باعث ایران نے عالمی معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کا عمل محدود کردیا ہے۔

انہوں‌نے کہا کہ ہم نے سرکاری طور پر 15 فروری کو بتایا تھا کہ اگر 23 فروری تک ایران پر عاید کردہ پابندیاں نہ اٹھائی گئیں تو ہم عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو تنصیبات کے معائنے کے اجازت محدود کردیں گے۔ کل منگل 23 فروری سے اس فیصلے پرعمل درآمد کر دیا گیا ہے۔