.

ماحول دوست توانائی کے میدان میں سعودی عرب کی پانچ درجے آگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے گذشتہ روز جاری کی جانے والی 'مؤثر انرجی تبدیلی' کی رپورٹ 2021 کے تحت سعودی عرب ماحول دوست توانائی کی منتقلی میں پانچ درجے مزید ترقی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متبادل توانائی کے میدان میں دنیا کے ممالک میں مقابلے کی کیفیت ہے۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ شفاف توانائی کی منتقلی میں کام کرنے والے ممالک کی مسلسل پیش رفت کے ساتھ پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے روایتی طور پر اپنائے گئے معاشی، سیاسی اور معاشرتی طریقوں کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے۔

رپورٹ میں توانائی کی منتقلی کے انڈیکس سے حاصل کردہ بصیرت پر انحصار کیا گیا ہے جو توانائی کی تین جہتوں میں انرجی سسٹم کے لحاظ سے 115 معیشتوں کی کارکردگی کی پیمائش کرتی ہے۔ ان میں معاشی ترقی، نمو اور ماحولیاتی استحکام ، توانائی کی حفاظت، پائیداری اور توانائی کے میدان میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے کام شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انرجی ٹرانزیشن انڈیکس 2021 میں سعودی عرب دنیا میں 81 ویں نمبر پر ہے۔ گذشتہ دس سالوں کے دوران سعودی عرب نے ایک بہت ہی مثبت اور مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو توانائی کی منتقلی کو فعال کرنے کے لیے مملکت کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ریگولیشن، سیاسی عزم اور ادارہ جاتی نظم وضبط کے معاملے میں سعودی کارکردگی میں پیش رفت واضح ہوتی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے متن کے مطابق سعودی عرب توانائی تک رسائی، سلامتی اور ادارہ جاتی حکمرانی میں اپنے ہمسایہ ممالک کی رہ نمائی کرتا ہے۔

بین الاقوامی سطح کی رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ سویڈن مسلسل چوتھے سال پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد اس کا پڑوسی ناروے دوسرے نمبر پر اور ڈنمارک تیسرے نمبر پر رہا۔ اس رپورٹ میں اعلی اور مغربی یورپی ممالک کا غلبہ ہے۔ عرب دنیا میں قطر پہلے (عالمی سطح پر 53 ویں) نمبر پر ہے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات (عالمی سطح پر 64ویں) اور مراکش (عالمی سطح پر 66) نمبر پر ہے۔

سب سے نمایاں ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں برطانیہ ساتویں، فرانس نویں، جرمنی 18ویں، امریکا 24 ویں، اٹلی 27، جاپان 36، چین 68 اور ہندوستان 87 ویں نمبر پر ہے۔