تشدد کے شکار متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے ہفتے کے روز جاری ایک رپورٹ میں ایرانی پہلوان اور باکسر نوید افکاری کےبھائیوں وحید اور حبیب پر تشدد اور ان کے خلاف غیرانسانی سلوک کی تفصیلات جاری کیں ہیں۔ نوید افکاری کو ملک کے خلاف کام کرنے کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ اب ان کے دو بھائیوں کو مسلسل 300 دنوں سے ایرانی زندانوں میں قید تنہائی میں ڈالا گیا ہے۔
بین الاقوامی تنظیم کے مطابق نوید افکاری کو پھانسی دینے کے بعد سے دونوں بھائیوں کوایک سال سے کال کوٹھڑی میں بند کیا گیا ہے جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہےاور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ ان کا دیگر زیر حراست افراد سے کوئی رابطہ نہیں رہا ہے ، انھیں طبی دیکھ بھال ، تازہ ہوا اور ٹیلی فون مواصلات جیسی ضروریات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ دونوں بھائیوں کے ساتھ ان کے خاندان کے کسی فرد کے رابطے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔
On International Day in Support of Victims of Torture, @amnesty issues new findings about torture inflicted on unjustly jailed brothers #VahidAfkari & #HabibAfkari, & renews its call on Iran's authorities to release them as they are arbitrarily detained. https://t.co/WHvXBVHsEq pic.twitter.com/3akog0yMFw
— Amnesty Iran (@AmnestyIran) June 26, 2021
اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایرانی عدالتی حکام نے ان دونوں حراست میں لیے گئے بھائیوں کی شکایات کو نظرانداز یا مسترد کیا گیا اور ان کے حقوق کو دانستہ طورپر پامال کیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بات پر زور دیا کہ افکاری کے بھائیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ناانصافی ایران میں ایک اذیت ناک اور وبا کی طرح وسیع پیمانے پر پھیل رہی ہے۔ زیر حراست افراد اور قیدیوں کو مختلف قسم کے اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افکاری کے بھائیوں جو نومبر 2019 کے احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو کوڑے مارنا ، بجلی کے جھٹکے ، تکلیف دہ طریقے سے بیٹھے یاکھڑا ہونے کی سزائیں، واٹربوڈنگ،مصنوعی پھانسی پرعمل درآمد ،جنسی تشدد ، طبی دیکھ بھال سے انکار ان پُرتشدد حربوں میں شامل ہیں جو ان قیدیوں کے ساتھ آزمائے جاتے ہیں۔