.
ایران جوہری معاہدہ

جوہری معاہدے کو پھر سے فعّال بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مدت صدارت پوری کرنے والے حسن روحانی نے زور دیا ہے کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کو دوبارہ مؤثر کرنے سے ہرگز نہیں ہچکچائے گا۔ بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس کے دوران میں انہوں نے کہا کہ "ہم عوام کے حقوق سے ہرگز دست بردار نہیں ہوں گے اور جوہری معاہدے کو پھر سے فعال بنانے کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو ہمارے بس میں ہے"۔

روحانی نے باور کرایا کہ آئندہ حکومت پُر امن جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش جاری رکھے گی۔

آٹھ سال ایران کے صدر کے منصب پر فائز رہنے والے حسن روحانی کے مطابق اسرائیل نے ایرانی جوہری توانائی کا منصوبہ تباہ کرنے کی خاطر اپنی تمام توانائی صرف کر دی۔

روحانی نے اپنے ملک پر عائد امریکی پابندیوں کو اقتصادی دہشت گردی قرار دیا۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر سے ایران کے کئی سیکٹروں اور ذمے داران پر سیکڑوں پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تہران اور مغربی ممالک کے بیچ جوہری معاہدہ 2015ء میں طے پایا تھا۔

البتہ جو بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے ساتھ ہی واشنگٹن اپریل 2021ء سے بالواسطہ طور پر جوہری معاہدے کے احیا کی خاطر مذاکرات میں داخل ہو گیا۔ یہ مذاکرات یورپی یونین کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔

تاہم ویانا میں جوہری بات چیت کے حوالے سے 6 دور پورے ہونے کے بعد بھی ابھی تک مذاکرات کے شرکاء بعض مسائل کے سلسلے میں مکمل اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ان مسائل میں پابندیوں کا معاملہ شامل ہے۔