.

غزہ کی پٹی پر رات گئے اسرائیلی فضائی حملے ۔۔ فوجی کمک میں اضافہ

اسرائیلی فوج کے زخمی ہونے کے بعد فلسطینیوں سے دوبارہ جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین سے موصولہ اطلاعات کے مطابق غزہ کے علاقے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان کے جھڑپوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلز کے نمائندوں کے مطابق ہفتے اور اتوار کی رات تل ابیب نے غزہ کی پٹی پر فضائی حملے کیے اور غزہ کی سرحد پر اپنی فوجی کمک میں اضافہ کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی سرحد پر صہیونی فوج کی کمک میں اضافہ صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ ادھر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے وسطی غزہ میں فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر تین میزائل برسائے۔

انہی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ائیر فورس نے غزہ کی پٹی میں مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں غزہ کی پٹی میں نسلی امتیاز کی مظہر اسرائیلی دیوار کے پار فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والے واقعات کے بعد کی گئیں۔ ان واقعات میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ ایک اسرائیلی فوجی کو شدید زخم آئے۔

اسرائیلی فوجی زخمی

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے بتایا کہ غزہ کی پٹی سے ہونے والی فائرنگ اور جھڑپوں میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی ہو گیا۔

ادرعی نے مزید بتایا کہ دیوار فاصل کے پاس ہونے والے مظاہروں میں شامل کچھ فلسطینیوں نے اسرائیلی فوجی سے بندوق چھیننے کی کوشش کی، جسے اسرائیلی فوجی نے ناکام بنا دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سیکڑوں فلسطینی شمالی غزہ کی پٹی میں سرحد پر لگائی حفاظتی باڑ کے قریب جمع ہو گئے، جہاں انھوں نے اسرائیلی فوجیوں پر دھماکہ خیز بم پھینکے۔

درایں اثنا اسرائیلی اخبار ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘ نے اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹنز کے حوالے سے بتایا کہ سرحدی باڑ کے قریب کی جانے والی بمباری خطرناک تھی اور ان کا ملک فلسطینیوں کی جھڑپوں پر شدید ردعمل دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہفتے کی صبح ہزاروں فلسطینی غزہ کی پٹی کے قریب سرحدی باڑ کے پاس جمع ہو گئے جبکہ اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ، اشک آور گیس کے شیل فائر کیے۔