سعودی عرب پاسپورٹ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ آزاد پیشہ تارکین وطن [سیلف ایمپلائیڈ] کو قید اور بھاری جرمانے کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قید کی مدت چھ ماہ اور جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد 50 ہزار ریال اور اس کے بعد ملک بدری شامل ہے۔
الوافد الذي يعمل لحسابه الخاص تطبق بحقه العقوبات التالية:
— الجوازات السعودية (@AljawazatKSA) October 2, 2021
1-غرامة مالية تصل الى 50.000 ريال
2-السجن مدة تصل إلى ستة أشهر
3-الترحيل#وطن_بلا_مخالف pic.twitter.com/B8UErpLtzW
یہ ٹویٹس پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے قواعد و ضوابط کے بارے میں آگاہی بڑھانے سے پیغامات کا حصہ ہے۔
غیر ملکی کارکنوں کے حوالے سےجنرل پاسپورٹ ڈاریکٹوریٹ نے ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ ایسے گھریلو ملازمین جو ویزہ کی مدت ختم ہونے کے چھ ماہ بعد تک واپس نہیں آتے یا آن لائن سروسز کے پلیٹ فارمز سے ویزہ کے بارے میں معیاد ختم ہونے کے تیس دن تک رابطہ نہیں کرتے ان کی ملازمت خود بہ خود ختم ہوجائے گی۔
اخبار’عکاظ‘ کے مطابق ایگزٹ اور ری انٹری ویزے کو فائنل انٹری ویزہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بہ شرطیکہ مستفید سعودی عرب سے باہر ہو۔
یہ ہدایات ان لوگوں کے لیے مقرر کی گئی ہیں جنہوں نے 3 سال کی مدت کے لیے داخلے کو روکنے کا وعدہ نہیں کیا تھا ، سوائے پچھلے آجر کے جس کے پاس نیا ویزا تھا۔ تاہم یہ شرط آزاد ویزہ اور اسکارٹس کے لیے نہیں۔
سعودی "پاسپورٹ" نے واضح کیا کہ باہر نکلنے اور واپسی کے ویزے کی میعاد کی مدت پہلے باہر نکلنے کی تاریخ سے شمار کی جاتی ہے۔