سارہ اور سلمیٰ عبدالغنی نے اپنی زندگی کے پہلے دو سال ایسی حالت میں گذارے کہ وہ پیدائشی طور پر سروں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ سرسے جڑے ہونے کے باعث وہ آزادانہ طورپر حرکت کرنے سے قاصر ہیں اور ان کی زندگی ان دونوں کے لیے غیرمعمولی حد تک مشکل ہے۔ وہ اپنی مرضی سے حرکت تک نہیں کرسکتیں۔
کوئی بھی عمل یا حرکت جو آپ کو مل کر کرنی چاہیے تھی بلاشبہ دونوں بچیوں کے لیے مشکل تھی۔ ان کی "نفسیاتی" اور حرکیاتی طور پر نشوونما میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
تاہم سارہ اور سلمیٰ دونوں کے لیے آنے والے گھنٹوں میں ایک نئی زندگی شروع کرسکتی ہیں کیونکہ وہ ریاض میں ایک دوسرے سے الگ کرنے کے آپریشن کےعمل سے گذریں گی۔
دونوں لڑکیاں علیحدگی کے عمل کے لیے گذشتہ منگل کو اپنے والدین کے ہمراہ سعودی دارالحکومت پہنچیں۔
"آنے والے دن عید ہیں"
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کی ہدایت پرمصرسے تعلق رکھنے والی بچیوں کو علاج کے لیے مصر لانے کی ہدایت کی تھی۔
جڑواں بچیوں کو قاہرہ سے ریاض منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں وزارت نیشنل گارڈ کے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرن اسپتال میں داخل کیا گیا ہے تاکہ ان کے سرجری کیس کا مطالعہ کیا جا سکے اور انہیں الگ کرنے کے عمل پر غور کیا جا سکے۔
دونوں لڑکیوں کے والد نے اس فراخدلانہ اقدام پر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی والدہ نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو کچھ محسوس کر رہی ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’آنے والے دن عید... عید ہیں۔"
قابل ذکر ہے کہ یہ جڑواں بچں کا 118 واں کیس ہے جو دنیا کے 22 ممالک سے سعودی عرب میں علاج کے لیے لائے گئے۔
-
سعودی عرب میں اقامے کی کم از کم مدت کے قانون پر عمل درآمد شروع
نئے سعودی قانون کے تحت اقامے میں توسیع کم ازکم تین ماہ تک کی جائے گی
مشرق وسطی -
شمالی سعودی عرب میں موسلادھار بارش میں کاریں ڈوب گئیں: ویڈیو
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ شمالی سعودی عرب کے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں زیر آب نوادرات کی تلاش کا پہلا منصوبہ
سعودی عرب کی ’ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی‘ جو دُنیا میں قابل تجدید سیاحتی منصوبوں میں سے ...
مشرق وسطی