ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن اور القدس فورس کے سابق سربراہ قاسم سلیمانی کے ایک ذاتی محافظ رضا خرمی کی بیوہ اعظم قمری نے انکشاف کیا ہے کہ تنقید کے خوف سے وہ گھر سے باہر اپنے شوہر کی شام میں ہلاکت کا ذکر کرنے کی جرات نہیں کرتی!
قمری کے مطابق اس کی وجہ عوام دباؤ اور ایران کے شام کے ساتھ تعلق کے حوالے سے لوگوں کے سوالات ہیں۔ بالخصوص جب کہ ملک سے باہر شیعہ مزاروں کے دفاع کے نام پر ان جنگجوؤں کی ادائیگی کی مد میں کافی رقم خرچ ہوتی ہے۔
پیر کے روز ایرانی اخبار "کیھان" کو دیے گئے بیان میں قمری نے مزید بتایا کہ ان وجوہات کی بنا پر وہ گھر سے باہر کسی سے یہ کہنے کی جرات نہیں کرتی کہ اس کا شوہر مقامات مقدسہ کے دفاع کے لیے شام گیا تھا اور وہاں مارا گیا۔ قمری یہ کہنا بہتر سمجھتی ہے کہ اس کا شوہر فوجی تھا اور سرحد پر ہلاک ہو گیا۔
قمری کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت اور اس کے ادارے شام میں اپنے جنگجوؤں کو بڑی رقم ادا کرتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے .. اور یہ رقم تقریبا مزدوروں کی تنخواہوں کے برابر ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی حکومت اور اس کے عسکری ادارے شام بھیجی گئی ایرانی فورسز اور پاکستانی و افغان ملیشیاؤں کو "شیعہ مزاروں کا دفاع کرنے والا" قرار دیتے ہیں۔
اعظم قمری کا شوہر رضا خرمی 1995ء میں ایرانی پاسداران انقلاب میں شامل ہوا تھا۔ کرنل کا عہدہ رکھنے والا خرمی جون 2016ء میں شام میں مارا گیا تھا۔
یاد رہے کہ شام میں ایرانی وجود کو ایرانی عوام کی جانب سے بارہا احتجاجی مظاہروں میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب میں رابطہ کاری کے معاون محمد رضا نقدی نے رواں سال جنوری میں انکشاف کیا تھا کہ ایران نے گذشتہ تیس برسوں کے عرصے میں خطے میں "دفاعی اور ثقافتی" سرگرمیوں پر 17 ارب ڈالر خرچ کیے۔
-
قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں ممکنہ طور پر برطانیہ کا کردار تھا: رپورٹ
برطانوی اخبارThe Guardian کی ایک رپورٹ میں ایرانی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم ...
بين الاقوامى -
قاسم سلیمانی کی تاسیس کردہ آذربائیجانی ملیشیا تہران اور باکو کے بحران میں نمودار
آذربائیجان اور ایران کے درمیان بحران شدت اختیار کر کے دھمکیوں ، انتباہات اور ...
مشرق وسطی -
ایران، حزب اللہ سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں: امریکی انٹیلی جنس
امریکا کے انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حکام جنرل قاسم سلیمانی کے قتل ...
بين الاقوامى