شوہر کی شام میں ہلاکت کا ذکر کرنے کی جرات نہیں: سلیمانی کے محافظ کی بیوہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن اور القدس فورس کے سابق سربراہ قاسم سلیمانی کے ایک ذاتی محافظ رضا خرمی کی بیوہ اعظم قمری نے انکشاف کیا ہے کہ تنقید کے خوف سے وہ گھر سے باہر اپنے شوہر کی شام میں ہلاکت کا ذکر کرنے کی جرات نہیں کرتی!

قمری کے مطابق اس کی وجہ عوام دباؤ اور ایران کے شام کے ساتھ تعلق کے حوالے سے لوگوں کے سوالات ہیں۔ بالخصوص جب کہ ملک سے باہر شیعہ مزاروں کے دفاع کے نام پر ان جنگجوؤں کی ادائیگی کی مد میں کافی رقم خرچ ہوتی ہے۔

پیر کے روز ایرانی اخبار "کیھان" کو دیے گئے بیان میں قمری نے مزید بتایا کہ ان وجوہات کی بنا پر وہ گھر سے باہر کسی سے یہ کہنے کی جرات نہیں کرتی کہ اس کا شوہر مقامات مقدسہ کے دفاع کے لیے شام گیا تھا اور وہاں مارا گیا۔ قمری یہ کہنا بہتر سمجھتی ہے کہ اس کا شوہر فوجی تھا اور سرحد پر ہلاک ہو گیا۔

قمری کے مطابق لوگ سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت اور اس کے ادارے شام میں اپنے جنگجوؤں کو بڑی رقم ادا کرتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے .. اور یہ رقم تقریبا مزدوروں کی تنخواہوں کے برابر ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت اور اس کے عسکری ادارے شام بھیجی گئی ایرانی فورسز اور پاکستانی و افغان ملیشیاؤں کو "شیعہ مزاروں کا دفاع کرنے والا" قرار دیتے ہیں۔

اعظم قمری کا شوہر رضا خرمی 1995ء میں ایرانی پاسداران انقلاب میں شامل ہوا تھا۔ کرنل کا عہدہ رکھنے والا خرمی جون 2016ء میں شام میں مارا گیا تھا۔

یاد رہے کہ شام میں ایرانی وجود کو ایرانی عوام کی جانب سے بارہا احتجاجی مظاہروں میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب میں رابطہ کاری کے معاون محمد رضا نقدی نے رواں سال جنوری میں انکشاف کیا تھا کہ ایران نے گذشتہ تیس برسوں کے عرصے میں خطے میں "دفاعی اور ثقافتی" سرگرمیوں پر 17 ارب ڈالر خرچ کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں